بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ایران ہماری تمام ضروری شرائط ماننے پر رضامند ہوگیا ہے، ٹرمپ دعویٰ

ایران امریکا کی تقریباً تمام اہم شرائط ماننے پر آمادہ ہو گیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ (Donald Trump)نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے اور فریقین کئی اہم معاملات پر اتفاقِ رائے سے حل کئے جائینگے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے اور فریقین کئی اہم معاملات پر اتفاقِ رائے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے امریکا کے مؤقف کو سنجیدگی سے لیا ہے اور اب معاملات پہلے سے کہیں زیادہ بہتر سمت میں جا رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ تہران کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں میں حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے اور انہیں امید ہے کہ جلد ایک ایسا معاہدہ طے پا سکتا ہے جو خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم ثابت ہوگا۔ امریکا اپنی قومی سلامتی اور خطے کے استحکام سے متعلق بنیادی مطالبات پر قائم ہے۔

دوسری جانب، قطری ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے، جہاں دونوں فریقوں نے آئندہ بھی بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ مذاکرات میں سکیورٹی، بحری راستوں کی آزادی اور دیگر حساس امور زیرِ بحث ہیں، تاہم کئی معاملات پر اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ صدر ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سےحوصلہ افزا مؤقف اختیار کیا ہے، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے دونوں ممالک کو ابھی متعدد پیچیدہ معاملات پر اتفاق کرنا ہوگا۔

امریکا اورایران کے درمیان شدید فوجی کشیدگی کے بعد خطے کی صورتحال انتہائی خراب ہوگئی تھی بعد ازاں سفارتی رابطوں میں تیزی آئی، پاکستان اور قطر کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا نیا دور شروع ہوا، جس میں اعتماد سازی اور ممکنہ معاہدے کے خدوخال پر بات چیت جاری ہے۔

مذاکرات کا بنیادی مقصد ایران کے جوہری پروگرام، امریکی پابندیوں، قیدیوں کے تبادلے، خطے میں سکیورٹی اور خلیج میں کشیدگی کم کرنے جیسے اہم معاملات پر پیش رفت حاصل کرنا ہے۔

مزید پڑھیں:لاہور: اداکارہ نگار چوہدری کے گھر چوری، سابق پولیس انسپکٹر پر مقدمہ درج

اگرچہ صدر ٹرمپ نے دوحہ میں جاری مذاکرات کے حوالے سے حوصلہ افزا مؤقف اختیار کیا ہے، تاہم ایرانی حکام کی جانب سے ابھی تک امریکی دعوے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔