وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ کا کہنا ہے کہ اتفاق رائے سے قانون سازی کی جا رہی ہے، ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ (Tele Communication Act) میں ترامیم وقت کا تقاضا ہے، ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ڈیٹا کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ میں ترامیم کے حوالے سے پریس کانفرنس کی۔
شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ ہم نے دنیا کی سب سے بڑی اسپیکٹرم آکشن کی، وقت کے ساتھ نظام میں بہتری لانا ضروری ہے۔
اُنہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعظم سے کہا کہ بل سے متعلق لگائے گئے االزامات پر انکوائری کروائی جائے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ کمیٹی کو کسی ایک کمپنی کو نوازے جانے کے الزام کے کوئی شواہد نہیں ملے۔
اُنہوں نے کہا کہ ہم ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہے ہیں، تعلیمی مقاصد اور فری لانسنگ کے لیے ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی ضروری ہے، ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کے تناظر میں قانون کو بہتر بنانے پر غور شروع کیا۔
مزید پڑھیں:یمن کی بندر گاہ حدیدہ کے قریب مال بردار جہاز پر حملے کی اطلاع
اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ کمیٹی نے بل میں تمام سقم دور کرنے کی ہدایت کی، ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کے لیے پبلک پراپرٹی کے استعمال کو فری کر دیا گیا، نجی پراپرٹیز سے متعلق کیٹیگریز طے کی جائیں گی، کمیٹی کی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کر دی گئی ہے۔








