مدینہ منورہ (نیوزڈیسک )مسلم لیگ(ن) مدینہ منورہ کے صدر جاوید اقبال بٹ نے کہاہے کہ 1973کا آئین عوامی مفاد کا ضامن نہیں رہا اب ملک ایک نیا سیاسی میثاق مانگتا ہے ۔اپنے ایک بیان میں جاوید اقبال بٹ نے کہاکہ نیوٹرل اسٹیبلشمنٹ نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی ،جرنیل سے جج زیادہ اینٹی جمہوریت اور اینٹی پارلیمنٹ ہیں ،عوامی مینڈیٹ کو بندوق کی بجائے قانون سے بہتر طور پر دفنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ نواز لیگ کی باگ ڈور صرف اور صرف قائد محترم میاں محمد نوازشریف کے وفادار ساتھیوں کو دینا ہوگی ۔انہوں نے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ نواز سیاست دراصل سیاسی خود کشی ہے ،پیپلز پارٹی سڑک کی بجائے ڈرائنگ روم کی پالیٹکس چاہتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ اب 1973 کا آئین بھی عوامی مفاد کا ضامن نہیں رہا، اب ملک ایک نیا سیاسی میثاق مانگتا ہے ، فوج، عدلیہ اور بیوروکریسی کے درمیان اس ملک کی عملی حیثیت ایک کولونیل ہستی کے طور پر قائم کرنے کے لئے ایک دائمی اتفاق رائے ہے جس پر عمل داری کمزور نہیں ہو ،مرکزی حکومت کا کام صرف وفاق چلانا ہونا چاہئے، ملک نہیں، وفاق میں قائم رہتے ہوئے صوبوں کو ملک کی طرح اور ضلعوں کو صوبوں کی طرح چلانا ہو گا، اختیارات اور وسائل کے ساتھ، عملی صوبائی خود مختاری کے بغیر یہ ملک فوج، عدلیہ اور بیوروکریسی کی تکون ہی چلائے گا، عوامی نمائندے نہیں۔
73کا آئین عوامی مفاد کا ضامن نہیں رہا ، ملک کو نیا سیاسی میثاق چاہیے،جاویداقبال بٹ








