مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے حملے کے دوران گولی لگنے سے زخمی ہونے والا 17 سالہ فلسطینی فٹبالر فادی حمداللہ النعسان (Fadi Hamdullah Al-Nasan)زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گیا۔ فلسطینی حکام اور اہلِ خانہ کے مطابق نوجوان ایک ہفتے تک زیرِ علاج رہا، تاہم جانبر نہ ہو سکا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فادی النعسان مقامی المغیر کلب کے کھلاڑی تھے اور فلسطین کی قومی انڈر 17 فٹبال ٹیم کا بھی حصہ رہ چکے تھے۔
ہفتہ کے روز ان کی نمازِ جنازہ اور تدفین کے موقع پر بڑی تعداد میں سوگواروں نے شرکت کی۔ ان کا جسدِ خاکی رام اللہ کے فلسطین میڈیکل کمپلیکس سے ان کے آبائی گاؤں المغیر منتقل کیا گیا، جہاں انہیں سپردِ خاک کیا گیا۔
فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ 11 جولائی کو اسرائیلی آبادکاروں کے حملے کے دوران فادی کو گولی لگی تھی۔ ایسوسی ایشن کے مطابق حملے کے دوران اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے ان کی ران میں گولی لگی، جس کے بعد ڈاکٹروں کو ان کی ٹانگ کاٹنا پڑی، لیکن وہ بعد میں زخموں کی شدت کے باعث انتقال کر گئے۔
فادی کے والد حمداللہ النعسان نے بتایا کہ ان کا بیٹا فٹبال سے بے حد محبت کرتا تھا۔ ان کے مطابق جب گاؤں پر حملہ ہوا تو خواتین اور بچوں کی چیخ و پکار سن کر وہ لوگوں کی مدد کے لیے جائے وقوعہ پر پہنچا، جہاں وہ گولی لگنے سے شدید زخمی ہو گیا۔
فادی کی والدہ حنان النعسان نے کہا کہ ان کا بیٹا نہ صرف ایک اچھا طالب علم تھا بلکہ کھیلوں میں بھی نمایاں صلاحیت رکھتا تھا اور گاؤں میں ہر شخص اسے پسند کرتا تھا۔
فلسطینی سرکاری خبر رساں ادارے وفا کے مطابق اسی حملے میں دو دیگر افراد ربڑ کی گولیوں سے زخمی ہوئے جبکہ ایک 10 سالہ بچے کے سر پر اسٹن گرینیڈ لگنے سے وہ بھی زخمی ہوا۔
مزیدپڑھیں:اُردن میں ایرانی حملوں میں متعدد امریکی ہیلی کاپٹرز کو نقصان پہنچا، امریکی اخبار
اسرائیلی فوج نے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
اقوام متحدہ کے مطابق اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
فلسطینی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار پر مبنی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی فورسز یا آبادکاروں کی کارروائیوں میں مقبوضہ مغربی کنارے میں کم از کم 1,088 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی حکومت نے حال ہی میں مقبوضہ مغربی کنارے میں 34 نئی آبادکاریوں کے قیام کے لیے تقریباً 434 ملین ڈالر کے بجٹ کی منظوری بھی دی ہے۔ اقوام متحدہ، فلسطینی حکام اور بیشتر ممالک ان بستیوں کو بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی قرار دیتے ہیں اور انہیں خطے میں امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔








