اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ایک پیشرفت یہ ہوئی ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے سیکریٹری ڈاکٹر سید توقیر شاہ نے سیکریٹریوں اور ججوں کو کم ترین قیمت پر سرکاری پلاٹ دینے کی پالیسی کے تحت اسلام آباد میں رہائشی پلاٹ لینے سے انکار کر دیا ہے ۔ سویلین بیوروکریسی میں حال ہی میں ہونے والی ترقیوں میں اعلیٰ ترین ترقی ملنے کے بعد توقیر شاہ نے باضابطہ طور پر سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کو خط لکھ کر کہا ہے کہ ان کے پاس پہلے ہی اسلام آباد میں ایک گھر اور جائیداد ہے لہٰذا 22؍ گریڈ کے افسران کو پلاٹ دینے کی خاطر ان کے (توقیر شاہ) کے نام پر غور نہ کیا جائے۔ سویلین بیوروکریسی میں ایسا بہت کم ہوا ہے۔ تاہم، سپریم کورٹ کے معاملے میں کچھ استثنیٰ ہے جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے تمام ججوں نے بھی ارزاں قیمتوں پر سرکاری پلاٹ لینے سے انکار کر دیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے تاریخی فیصلے کے بعد ججوں، بیوروکریٹس، صحافیوں اور دیگر با اثر افراد کو رہائشی پلاٹ دینے کی انتہائی متنازع پالیسی پر پی ٹی آئی حکومت میں نظرثانی کی گئی تھی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا تھا کہ سینئر ججوں، بیوروکریٹس اور دیگر افراد کو سبسڈی پر (کم قیمت میں) رہائشی پلاٹس دینا غیر قانونی ہے۔ ایک اور سابقہ فیصلہ میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کے ججوں اور بائیس گریڈ کے سرکاری ملازمین کو اسلام آباد میں دو پلاٹس دینے کو مسترد کیا تھا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ ججوں کے معاملے میں صدارتی آرڈر میں ججوں کیلئے مراعات اور مشاہرہ درج ہے اور ایک سرکاری ملازم یا پھر وفاقی حکومت کے ملازم کی طرح سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے جج کو کوئی اختیار یا ایسی سہولت حاصل نہیں ہے کہ اسے مارکیٹ کی قدر سے کم قیمت پر پلاٹ دیا جائے۔ عدالت کی رائے تھی کہ عدالتوں یا ججوں کا فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہائوسنگ اتھارٹی کی اسیکموں میں حصہ لینا یا پھر کوئی مراعات قبول کرنا عوامی مفاد کیخلاف ہے اور یہ معاملہ عدلیہ بحیثیت ایک ادارے کی آزادی اور اس کی غیر جانبداریت سے متصادم ہے، پلاٹس لینا عوام کے بنیادی حقوق ہڑپ کرنے جیسا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد اس معاملے پر عمران خان کابینہ میں بحث ہوئی تھی لیکن اُس وقت کے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے مطابق پی ٹی آئی کے وزیر قانون فروغ نسیم نے ججوں کو پلاٹس دینے کی پالیسی ختم کرنے کی مخالفت کی تھی۔ بعد میں وزارت ہائوسنگ اور ورکس نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی تھی۔ اب تک وفاقی حکومت کی سطح پر کروڑوں روپے مالیت کے دو رہائشی پلاٹس سپریم کورٹ کے ہر جج اور بائیس گریڈ کے ہر سویلین بیوروکریٹ کو دیے جاتے تھے۔ ہائی کورٹ کے جج کو ایک پلاٹ ملتا ہے۔ تاہم، اچھی مثال قائم کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے چار ججوں (جن میں چار حاضر سروس) اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے تمام ججوں نے ایک بھی پلاٹ کیلئے درخواست جمع نہیں کرائی۔ججوں کو پلاٹس دینا ان کی ملازمت کے حوالے سے صدارتی آرڈر میں درج شرائط و ضوابط میں موجود نہیں۔ صدارتی آرڈر میں ججوں کی تنخواہ، پنشن، مراعات وغیرہ کی باتیں موجود ہیں۔ سابق چیف جسٹس پاکستان جواد ایس خواجہ نے بھی حکومت سے پلاٹ لینے سے انکار کر دیا تھا جبکہ ان کے ساتھی ججوں کو دو دو پلاٹس ملے تھے۔ 2017ء میں سابق چیف جسٹس نے دی نیوز کو بتایا تھا کہ چند با اثر منتخب افراد کو رہائشی پلاٹس دینے پالیسی غیر شفاف اور غیر منصفانہ ہے لیکن اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے معاملے میں یہ پالیسی ضابطہ کار کے مطابق نہیں۔ پی ٹی آئی حکومت کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ حوصلہ افزا ہے لیکن وہ بھی یہ پالیسی ختم نہیں کرا سکی۔ دلچسپ بات ہے کہ ایسے پلاٹس دینے کی منظوری پارلیمنٹ نے کبھی نہیں دی، دبائو میں آ کر ایسے ایگزیکٹو آرڈر جاری کیے گئے تھے۔ 2012ء میں پبلک اکائونٹس کمیٹی نے ماسوائے شہداء فوجی افسران کو زرعی زمین کی الاٹمنٹ کی پالیسی ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور ساتھ ہی ججون صحافیوں اور بائیس گریڈ کے افسران کو بھی پلاٹس دینا بند کرنے کا کہا تھا۔ تاہم، پالیسی دبا دی گئی اور اس پر دوبارہ کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ پبلک اکائونٹس کمیٹی نے با اثر گروپس کو پلاٹس دینے کی پالیسی پر تنقیدی رائے کا اظہار کیا تھا اور کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ ایگزیکٹو کی جانب سے آزاد اور غیر جانبدار حلقوں جیسا کہ ججوں اور صحافیوں کو پلاٹ دینے سے ان حلقوں کے کام کاج کے انداز پر جانبداریت اور اور تعصب کے الزامات لگ سکتے ہیں۔ لہٰذا، صرف معذور، بیوائوں او رشہداء کے اہل خانہ کے سوا کسی کیلئے بھی پلاٹس کی الاٹمنٹ کیلئے خصوصی پالیسی نہیں ہونا چاہئے۔ وفاقی حکومت کے ملازمین کیلئے پبلک اکائونٹس کمیٹی کا کہنا تھا کہ ڈی ایچ اے کی طرز پر اسکیم شروع کی جائے تاکہ افسران اپنے پلاٹس کیلئے ماہانہ بنیادوں پر تنخواہوں میں سے حصہ ڈالیں اور ریٹائرمنٹ پھر ایسے افسران کو تیار شدہ گھر یا فلیٹ الاٹ کیا جائے۔
سینئر ترین بیوروکریٹ کا سرکاری پالیسی کے تحت پلاٹ لینے سے انکار








