نیو جرسی کے میٹ لائف اسٹیڈیم میں 19 جولائی 2026 کی رات سپین کی فٹبال تاریخ نے خود کو دہرایا۔ سولہ سال پہلے جنوبی افریقہ میں فرنینڈو ٹوریس (Fernando torres)کی قیادت میں اسپین نے اپنا پہلا عالمی کپ جیتا تھا، اور اب فیران ٹوریس نے اپنے ملک کو دوسری بار فٹبال کی دنیا کا تاج پہنا دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں کھلاڑیوں کا نام ایک ہی ہے، مگر ان کا آپس میں کوئی خاندانی تعلق نہیں۔
فائنل کی کہانی
اسپین اور ارجنٹائن کے درمیان فائنل ایک نہایت سخت اور کم گول والا مقابلہ ثابت ہوا۔ میچ کے 62ویں منٹ میں کوچ لوئس دے لا فوئنتے نے میکل اویارزابال کی جگہ فیران ٹوریس کو میدان میں اتارا۔ ارجنٹائن کے کھلاڑی اینزو فرنانڈیز کو پاؤ کوبارسی پر خطرناک فاؤل کرنے پر ریڈ کارڈ ملا، جس کے بعد ارجنٹائن دس کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے پر مجبور ہوا۔
میچ اضافی وقت میں چلا گیا، اور اضافی وقت کے دوسرے حصے کے آغاز کے چند سیکنڈ بعد، 106ویں منٹ میں فیران ٹوریس نے قریب سے ایک شاندار شاٹ کے ذریعے گیند کو ارجنٹائن کے گول کیپر ایمیلیانو مارٹینیز کے پیچھے پہنچا دیا۔ یہ پورے ٹورنامنٹ میں فیران کا پہلا گول تھا، اور اسی گول نے اسپین کو 1-0 کی برتری اور بالآخر فتح دلا دی۔ میچ کے بعد فیران ٹوریس نے کہا کہ یہ گول محض ان کا یا 26 کھلاڑیوں کا نہیں بلکہ چار کروڑ ستر لاکھ اسپین کے عوام کا تھا۔
اس فتح کے ساتھ ہی اسپین کی قومی ٹیم نے دوسری بار عالمی کپ اپنے نام کیا، جبکہ لیونل میسی کی زیرقیادت ارجنٹائن مسلسل چوتھی بڑی ٹرافی جیتنے کے قریب پہنچ کر بھی محروم رہ گیا۔
مزیدپڑھیں:فیفا ورلڈکپ 2026 کی فاتح ٹیم اسپین پر ڈالروں کی بارش، کتنی انعامی رقم ملی؟
فرنینڈو ٹوریس: سولہ سال پہلے کی بنیاد
2010 کا عالمی کپ سپین کی فٹبال تاریخ کا سب سے یادگار لمحہ تھا، جب فرنینڈو ٹوریس، جنہیں شائقین پیار سے “ایل نینو” کہتے ہیں، اس فاتح ٹیم کا اہم حصہ تھے۔ اگرچہ فرنینڈو نے فائنل میں گول نہیں کیا — وہ گول آندریس اینیستا نے کیا تھا — مگر ٹورنامنٹ بھر میں ان کی موجودگی، رفتار اور دفاعی کھلاڑیوں کو الجھانے کی صلاحیت نے ٹیم کے حملوں کو مضبوط بنایا۔ فرنینڈو اس سے قبل 2008 کے یورو کپ کے فائنل میں فیصلہ کن گول داغ کر اسپین کو 44 سال بعد پہلا بڑا عالمی اعزاز دلوا چکے تھے۔
دو ٹوریس، ایک تاریخ
فیران ٹوریس کی پیدائش 29 فروری 2000 کو ویلنسیا کے قریب فویوس نامی قصبے میں ہوئی۔ انہوں نے ویلنسیا کی اکیڈمی سے فٹبال کا آغاز کیا، پھر مانچسٹر سٹی سے ہوتے ہوئے اب بارسلونا کے لیے کھیل رہے ہیں۔ فرنینڈو ٹوریس کی طرح، فیران بھی اسپین کی قومی ٹیم کے لیے ایک فیصلہ کن اور تاریخی لمحے میں سامنے آئے — فرق صرف اتنا ہے کہ فیران کا یہ کارنامہ براہ راست فائنل کے فیصلہ کن گول کی صورت میں سامنے آیا۔
یوں دو ہم نام کھلاڑیوں کے درمیان سولہ سال کا وقفہ، مگر ایک جیسی تاریخی حیثیت — “ایک اور ٹوریس، ایک اور عالمی کپ” کا نعرہ اب سپین کی فٹبال تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔









