بیجنگ (کامرس ڈیسک)ایک ارب پتی انڈیکس نے انکشاف کیا کہ چین کے رئیل اسٹیٹ شعبے میں سیکٹر میں نقدی کی کمی کی وجہ سے ایشیا کی سب سے امیر ترین خاتون اپنی نصف سے زیادہ دولت سے گزشتہ سال محروم ہو گئیں۔
نجی خبررساں ادارےمیں شائع خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بلومبرگ بلینیئرز انڈیکس کے مطابق چینی پراپرٹی ٹائیکون کنٹری گارڈن میں اکثریتی شیئر ہولڈر یانگ ہوئیان کی مجموعی مالیت ایک سال قبل 23.7 ارب ڈالر تھی جو اب 52 فیصد سے زیادہ کمی کے بعد 11.3 ارب ڈالر ہو گئی ہے۔
بدھ کے روز یانگ کی قسمت کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب گوانگ ڈونگ میں مقیم کنٹری گارڈن کے ہانگ کانگ میں درج حصص 15 فیصد گر گئے اور کمپنی نے اعلان کیا کہ وہ نقد رقم اکٹھا کرنے کے لیے نئے حصص فروخت کرے گی۔
سرکاری میڈیا کے مطابق یانگ کو یہ دولت وراثت میں ملی تھی اور ان کے والد اور کنٹری گارڈن کے بانی یانگ گوکیانگ نے 2005 میں اپنے حصص اسے منتقل کر دیے تھے۔
ہانگ کانگ میں ڈیولپر کی ابتدائی عوامی پیشکش کے بعد وہ دو سال بعد ایشیا کی امیر ترین خاتون بن گئی تھیں۔
لیکن اب وہ بمشکل اس ٹائٹل پر فائز ہیں کیونکہ کیمیکل فائبر ٹائیکون فان ہونگوی 11.2 ارب ڈالر کی مجموعی مالیت کے ساتھ انہیں پیچھے چھوڑنے کے لیے تیار نظر آتی ہیں۔
چینی حکام نے 2020 میں پراپرٹی کے شعبے میں ضرورت سے زیادہ قرضوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا، جس سے ایورگرانڈ اور سناک جیسے بڑے کھلاڑی ادائیگیوں کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور وہ دیوالیہ پن کے دہانے پر پہنچنے کے بعد قرض دہندگان کے ساتھ دوبارہ گفت و شنید پر مجبور ہو گئے۔
ملک بھر میں خریداروں نے تعمیر اور اپنی جائیدادوں کی فراہمی میں تاخیر پر غصے میں تکمیل سے پہلے فروخت کیے گئے گھروں کے لیے رہن کی ادائیگی روکنا شروع کر دی ہے۔









