بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

اسلام آباد میں شی جن پنگ کی پارٹی سازی پر سیمینار، پاک چین تعلقات پر بھی گفتگو

اسلام آباد:عوامی جمہوریہ چین کے سفارتخانے اور انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے زیر اہتمام ’’شی جن پنگ کی پارٹی سازی سے متعلق فکر‘‘ کے موضوع پر مشترکہ سیمینار منعقد ہوا۔ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی تقریب کے مہمان خصوصی تھے، جبکہ سفارتکاروں، ارکان پارلیمنٹ، تھنک ٹینکس اور میڈیا نمائندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔چینی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے آرگنائزیشن ڈیپارٹمنٹ کے پارٹی بلڈنگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ اور فرسٹ کلاس انسپکٹر لیو داشیو نے تقریب سے خطاب کیا۔

سینٹرل پارٹی اسکول آف دی سی پی سی سنٹرل کمیٹی کے شعبہ پارٹی بلڈنگ کے پروفیسر ژینگ ہوان نے بھی شی جن پنگ کی پارٹی سازی سے متعلق فکر کے مختلف پہلوؤں پر شرکاء کو بریفنگ دی۔چین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ، انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے صدر جوہر سلیم اور چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ مقررین نے صدر شی جن پنگ کی بصیرت افروز قیادت اور ان کے وژن کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں چین نے ترقی اور خوشحالی کی نئی منازل طے کی ہیں۔مقررین نے کہا کہ شی جن پنگ کی پارٹی سازی سے متعلق سوچ مارکسزم کے سائنسی نظریے سے ماخذ ہے، چینی تہذیب و ثقافت کی عمدہ روایات میں جڑی ہوئی ہے اور خود احتسابی، خود اصلاحی اور خود استحکامی کے حوالے سے چینی کمیونسٹ پارٹی کی عملی جدوجہد سے رہنمائی حاصل کرتی ہے۔

 

شی جن پنگ کی پارٹی سازی سے متعلق سوچ کی عصری خصوصیات اور عالمی اہمیت‘‘ کے عنوان سے رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے مقررین نے کہا کہ یہ سوچ نئے دور میں پارٹی کے نظم و نسق کو مکمل اور سخت بنانے کے عملی تجربات کا نچوڑ اور خلاصہ پیش کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ سوچ پارٹی سازی کے حوالے سے مارکسی نظریے کو آگے بڑھاتی اور اس میں نئی جہتیں پیدا کرتی ہے۔

اس میں مارکسی نظریے کے بنیادی اصولوں کو برقرار رکھتے ہوئے نئے دور میں پارٹی کے مکمل اور سخت خود احتسابی کے عملی تجربات سے گہری وابستگی پیدا کی گئی ہے، جس سے پارٹی سازی کے نظریے میں ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔مقررین کے مطابق شی جن پنگ کی فکر چین کی عمدہ روایتی ثقافت کو آگے بڑھانے اور اسے نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں سیاسی جماعتوں کے عروج و زوال سے حاصل ہونے والے اسباق کا بھی احاطہ کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ سوچ عالمگیریت کے دور میں دنیا کی سیاسی ترقی کے لیے چینی تجاویز اور حل پیش کرتی ہے اور سیاسی میدان میں انسانیت کے لیے چینی دانش اور قوت فراہم کرتی ہے، جو وسیع القلبی اور دور اندیشی کی عکاس ہے۔

مقررین نے شی جن پنگ کی پارٹی سازی سے متعلق فکر‘‘ کو ’’مارکسی پارٹی سازی کے نظریے اور چینی کمیونسٹ پارٹی کی تعمیر کی تاریخ میں ایک سنگِ میل قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ صدر شی جن پنگ نے 2012 میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی 18ویں قومی کانگریس کے بعد اس تصور کو مزید فروغ دیا، جو اس امر سمیت اہم سوالات کا جواب فراہم کرتا ہے کہ طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والی مارکسی جماعت کی تعمیر کیسے کی جائے۔مقررین نے کہا کہ یہ تصور نئے دور میں پارٹی سازی کو مضبوط بنانے کے لیے بنیادی رہنما اصول کے طور پر کام کرے گا۔پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون اور دوطرفہ تعلقات کو سراہتے ہوئے مقررین نے کہا کہ گزشتہ 75 برسوں کے دوران دونوں ممالک نے تاریخ کے متعدد امتحانات سے گزر کر ایک آہنی دوستی قائم کی ہے اور ہمیشہ ایک دوسرے کا احترام اور حمایت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں صدر شی جن پنگ اور پاکستانی قیادت کی تزویراتی رہنمائی میں پاکستان اور چین کے دوطرفہ تعلقات بلند ترین سطح پر برقرار رہے ہیں، جبکہ مشترکہ مستقبل کے حامل پاک چین معاشرے کی تشکیل میں بھی ٹھوس پیش رفت ہوئی ہے۔

مقررین نے کہا کہ پاک چین تعلقات کے ایک اہم جزو کے طور پر چینی کمیونسٹ پارٹی نے پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ طویل عرصے سے دوستانہ روابط برقرار رکھے ہیں، جس سے سیاسی جماعتوں کے درمیان تزویراتی باہمی اعتماد کے استحکام، عملی تعاون کے فروغ اور دونوں ممالک کے درمیان آہنی دوستی کو مزید گہرا کرنے میں اہم کردار ادا ہوا ہے۔

تقاریر کے بعد ایک انٹرایکٹو سیشن بھی ہوا، جس میں صدر شی جن پنگ کی پارٹی سازی سے متعلق سوچ کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔