بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

نئے صوبوں میں ہزارہ اور بہاولپور صوبے پہلے بنائے جائیں، سردار یوسف، محمد علی درانی

اسلام آباد: وفاقی وزیر مذہبی امور اور چیئرمین صوبہ ہزارہ تحریک سردار محمد یوسف اور سابق وفاقی وزیر اطلاعات و چیئرمین تحریک بحالی بہاولپور صوبہ محمد علی درانی نے کہا ہے کہ ملک کی سالمیت اور استحکام کے لیے نئے صوبوں کا قیام ضروری ہے۔ دونوں رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ سب سے پہلے ہزارہ اور بہاولپور کو صوبوں کا درجہ دیا جائے۔

یہ بات انہوں نے اسلام آباد میں ایک ملاقات کے دوران کہی، جس میں مرکزی کوآرڈینیٹر صوبہ ہزارہ تحریک پروفیسر سجاد قمر بھی موجود تھے۔ رہنماؤں نے کہا کہ وہ ایک عرصے سے ہزارہ اور بہاولپور صوبوں کے قیام کی تحریک چلا رہے ہیں اور اب قومی سطح پر بھی نئے صوبوں کے قیام کی بحث شروع ہوگئی ہے، جس کا وہ خیرمقدم اور حمایت کرتے ہیں۔

سردار محمد یوسف اور محمد علی درانی نے کہا کہ عوام کی مؤثر شراکت اور مسائل کے حل کے لیے اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق نئے صوبوں کے قیام سے وفاق کمزور نہیں بلکہ مزید مضبوط ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کا مطالبہ نسلی یا لسانی بنیادوں پر نہیں بلکہ خالصتاً انتظامی بنیادوں پر ہے۔

سردار محمد یوسف نے کہا کہ تقسیم ہند کے وقت ہزارہ کے ووٹوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق ہزارہ میں 18 قبائل آباد ہیں اور مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں، جبکہ علاقے کے عوام کا متفقہ مطالبہ ہے کہ ہزارہ کو الگ صوبے کا درجہ دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہزارہ صوبے کے مطالبے کے لیے عوام کی حمایت موجود ہے اور ماضی میں ملک بھر میں عوامی طاقت کا مظاہرہ بھی کیا جاچکا ہے۔ ضرورت پڑنے پر دوبارہ عوام سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔ سردار محمد یوسف کے مطابق صوبہ ہزارہ کا مطالبہ اس وقت پارلیمنٹ کے ایوانوں میں بھی موجود ہے، خیبر پختونخوا اسمبلی تین مرتبہ صوبہ ہزارہ کے قیام کی قرارداد منظور کرچکی ہے جبکہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی اس حوالے سے بل موجود ہے۔

چیئرمین تحریک بحالی صوبہ بہاولپور محمد علی درانی نے کہا کہ ہزارہ اور بہاولپور کے درمیان یہ قدر مشترک ہے کہ دونوں علاقوں کے عوام نے پاکستان کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ ان کے مطابق عام لوگوں کی آواز اور طاقت کو فیصلہ سازی کے ایوانوں تک رسائی ملنی چاہیے تاکہ شہریوں کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کیے جاسکیں۔

محمد علی درانی نے کہا کہ ان کی تحریکیں صرف ڈرائنگ رومز تک محدود نہیں بلکہ عوام کے درمیان موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں نئے صوبے بننے چاہییں، تاہم پہلے بہاولپور، ہزارہ اور جنوبی پنجاب کو صوبوں کا درجہ دیا جائے۔