سوراب میں گاڑی میں نصب دیسی ساختہ دھماکا خیز ڈیوائس (وی بی آئی ای ڈی) کے دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان پولیس کے ہمراہ مشترکہ کلیئرنس آپریشن کیا، جس کے دوران مجموعی طور پر 18 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق سوراب میں دھماکا دہشت گردوں کی جانب سے تیار کیے گئے بارودی مواد کے قبل از وقت پھٹنے کے باعث ہوا۔ ابتدائی دھماکے میں 8 دہشت گرد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔
دھماکے کے نتیجے میں دہشت گردوں کی جانب سے ذخیرہ کیا گیا بارودی مواد بھی پھٹ گیا، جس کے باعث قریبی علاقے میں موجود 3 شہری جاں بحق ہوگئے۔ واقعے نے آبادی والے علاقوں میں دہشت گردوں کی جانب سے دھماکا خیز مواد ذخیرہ کرنے کے سنگین خطرات کو بھی نمایاں کیا ہے۔
دھماکے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان پولیس کے تعاون سے علاقے میں مشترکہ کلیئرنس آپریشن شروع کیا۔ کارروائی کے دوران فرار ہونے کی کوشش کرنے والے دہشت گردوں کا سیکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں مزید 10 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔
یوں آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 18 ہوگئی، جبکہ کارروائی کے دوران 2 سیکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوئے۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق دہشت گرد نیٹ ورکس نہ صرف سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ آبادی والے علاقوں میں بارودی مواد کی تیاری اور ذخیرہ اندوزی کے ذریعے عام شہریوں کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈالتے ہیں۔
علاقے میں سینیٹائزیشن اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے باقی ماندہ دہشت گردوں کی موجودگی کا سراغ لگانے کے ساتھ ان کے معاون، سہولت کار اور لاجسٹک نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے کارروائیاں کی جارہی ہیں۔
حکام کے مطابق پاکستان کی انسداد دہشت گردی مہم عزمِ استحکام کے تحت دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے اور ملک میں امن و استحکام کے قیام کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔









