بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سائنس دانوں نے کائنات میں ہمارے نظام شمسی جتنا بڑا ’بلیک ہول اسٹار‘ دریافت کرلیا

ماہرینِ فلکیات(Astronomers) نے خلا کی وسیع و عریض دنیا میں ایک ایسا انوکھا اجرام فلکی دریافت کیا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔ سائنس دانوں نے اسے ممکنہ طور پر ایک نئی قسم کا فلکیاتی جسم قرار دیتے ہوئے ’’بلیک ہول اسٹار‘‘ کا نام دیا ہے۔

امریکی ادارے میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی اس دریافت کو سائنسدانوں نے ایک نئی قسم کا فلکیاتی جسم قرار دیتے ہوئے ’’بلیک ہول اسٹار‘‘ کا نام دیا ہے۔

سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق یہ دریافت جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی مدد سے کی گئی ہے اور ماہرین کا خیال ہے کہ اس سے خلا میں نظر آنے والی چند انتہائی پراسرار اور چمکدار سرخی مائل چیزوں کی حقیقت کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔

یہ بلیک ہول نما اسٹار ابتدائی کائنات میں موجود تھا، یعنی بگ بینگ کے صرف چند کروڑ سال بعد کے دور میں۔ اس کا مشاہدہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ سے حاصل ہونے والی تصاویر کے ذریعے کیا گیا۔ سائنس دانوں کے مطابق یہ جسم جسامت میں تقریباً ہمارے نظامِ شمسی جتنا بڑا ہے اور اس سے نکلنے والی توانائی کسی بھی عام ستارے کے مقابلے میں تقریباً سو ارب گنا زیادہ ہے۔

تحقیق کے مطابق اس جسم کے مرکز میں ایک بہت بڑا بلیک ہول موجود ہو سکتا ہے جس کی کمیت سورج سے تقریباً ایک لاکھ گنا زیادہ ہے۔ اس کے گرد ہائیڈروجن گیس کا ایک انتہائی گھنا بادل موجود ہونے کا امکان ہے۔ یہی ممکنہ وجہ ہے کہ یہ گیس اس پورے جسم کو ایک بڑے ستارے جیسی شکل دے رہی ہے۔

عام ستاروں اور اس ممکنہ ’’بلیک ہول اسٹار‘‘ میں بنیادی فرق یہ ہے کہ عام ستاروں میں توانائی جوہری انضمام یعنی نیوکلیئر فیوژن کے عمل سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس نئے دریافت شدہ جسم میں توانائی کا ذریعہ اس کے مرکز میں موجود بلیک ہول ہو سکتا ہے۔ جب گیس اور دیگر مادہ بلیک ہول کی طرف گرتا ہے تو اس عمل کے دوران بہت زیادہ توانائی خارج ہوتی ہے، جس سے یہ جسم انتہائی روشن دکھائی دے سکتا ہے۔

یہ دریافت ’’میراج‘‘ یا ’’میریکل‘‘ نامی ایک فلکیاتی سروے کے دوران سامنے آئی، جس کا مقصد کائنات کی ابتدائی تاریخ میں موجود قدیم ترین کہکشاؤں اور دیگر اجسام کی تلاش کرنا تھا۔ جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کی تصاویر کا جائزہ لیتے ہوئے ماہرین کو ایک ایسا غیر معمولی جسم نظر آیا جو بہت زیادہ روشن اور سرخی مائل تھا۔ اس کی خصوصیات کسی معروف ستارے یا کہکشاں سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔

مزیدپڑھیں:چینی ڈرونز کے خلاف ٹرمپ کا بڑا فیصلہ، 100 فیصد تک ٹیکس لگا دیا

مزید تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس جسم سے آنے والی روشنی میں ہائیڈروجن اور ہیلیم کے علاوہ تقریباً کوئی دوسرے عناصر موجود نہیں تھے۔ سائنس دانوں نے کمپیوٹر ماڈلز اور سمیولیشنز کی مدد سے مختلف امکانات کا جائزہ لیا۔ ان ماڈلز سے یہ امکان سامنے آیا کہ ایک فعال بلیک ہول کے گرد موجود انتہائی گھنے ہائیڈروجن گیس کا بڑا بادل اس جسم کی غیر معمولی سرخی اور بہت زیادہ چمک کی وضاحت کر سکتا ہے۔

اس تحقیق کے مرکزی مصنف اور ایم آئی ٹی سے وابستہ ماہرِ فلکیات روہن نائیڈو کے مطابق سائنس دان ابھی اس جسم کو مکمل طور پر سمجھنے کے مرحلے میں ہیں اور اس بارے میں ان کی سمجھ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ تاہم موجودہ شواہد اس خیال کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ ایک بہت بڑا بلیک ہول ستارے جیسی گیس کی تہہ کے اندر چھپا ہو سکتا ہے۔

اس دریافت کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے ابتدائی کائنات میں کئی ایسے پراسرار سرخ اجسام دریافت کیے ہیں جنہیں عام طور پر ’’لٹل ریڈ ڈاٹس‘‘ یعنی ’’چھوٹے سرخ نقطے‘‘ کہا جاتا ہے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اگر بلیک ہول اسٹار کا تصور درست ثابت ہوتا ہے تو ممکن ہے کہ ان میں سے بعض سرخ اجسام کی اصل نوعیت بھی اسی طرح کے بلیک ہول اور گیس کے مجموعے سے جڑی ہو۔

تحقیق کے مطابق موم-بی ایچ-اسٹار-1 نامی اس ممکنہ جسم سے پیدا ہونے والی توانائی کسی عام ستارے کے مقابلے میں تقریباً 100 ارب گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔ اگرچہ یہ اعداد و شمار اس کے غیر معمولی ہونے کو ظاہر کرتے ہیں، لیکن ماہرین اب بھی مزید مشاہدات اور تحقیق کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ جسم حقیقت میں کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کے مشاہدات سے ’’بلیک ہول اسٹار‘‘ کی موجودگی کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اس سے یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ کائنات کے ابتدائی دور میں اتنے بڑے بلیک ہولز کیسے وجود میں آئے اور انہوں نے وقت کے ساتھ کس طرح ارتقا کیا۔