امریکی پابندیوں اور سمندری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث ایران نے تیل (oil)کی برآمدات کے لیے ریل کا راستہ اختیار کرنا شروع کردیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کرنے والی خبر کے مطابق ایران کی سمندری تیل برآمدات 21 لاکھ بیرل یومیہ سے گھٹ کر تقریباً 5 لاکھ 67 ہزار بیرل یومیہ رہ گئی ہیں جس کے بعد تہران نے متبادل زمینی راستوں پر انحصار بڑھا دیا ہے۔
⚡️NEW: Iran continues to Export Oil through Railways and is significantly expanding its fleet of Pressurized Tank Cars pic.twitter.com/wfV3stPC6w
— Iran Observer (@IranObserver0) August 15, 2026
ایران تقریباً 10 ہزار 400 کلومیٹر طویل ریلوے کوریڈور کے ذریعے تیل چین کے مختلف شہروں تک پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سفر میں تقریباً 15 دن لگ سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایران پریشرائزڈ آئل ٹینکر ریل کارز کی تعداد بڑھانے کے ساتھ پرانے ذخیرہ مراکز کو بھی دوبارہ فعال کر رہا ہے تاکہ تیل کی ترسیل کا سلسلہ برقرار رکھا جاسکے۔
مزیدپڑھیں:وسیم اکرم کے بعد شاہد آفریدی کا کتا بھی لاپتا، مداحوں سے تلاش میں مدد کی اپیل
تاہم ریل کے ذریعے تیل کی ترسیل سمندری راستے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگی ہے۔ اندازوں کے مطابق ریل سے ایک بیرل تیل کی ترسیل پر تقریباً 15 ڈالر لاگت آتی ہے جبکہ سمندری راستے سے یہی لاگت تقریباً 5 ڈالر فی بیرل ہے۔
صلاحیت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے ایک ٹرین تقریباً 70 ہزار بیرل تیل لے جاسکتی ہے جبکہ ایک بڑے آئل ٹینکر میں 20 لاکھ سے زائد بیرل تیل منتقل کرنے کی گنجائش ہوسکتی ہے۔









