خیبرپختونخوا حکومت(Kpk Government) نے وفاق کی جانب سے صوبے کی وفاقی مالیاتی منتقلی سے 6.4 ارب روپے کی کٹوتی کی تجویز مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ صوبے کی رضامندی کے بغیر کسی بھی رقم کی یکطرفہ کٹوتی قابل قبول نہیں ہوگی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ یہ معاملہ محض سیاسی اختلاف کا نہیں بلکہ صوبے کے آئینی اور مالیاتی حقوق کا ہے، جن کے تحفظ کے لیے حکومت ہر قانونی اور آئینی راستہ اختیار کرے گی۔
انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ سے قبل خیبرپختونخوا سے اضافی رقم فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ایف بی آر کی جانب سے 15 ہزار 260 ارب روپے کا ٹیکس ہدف حاصل ہونے کی صورت میں صوبے کا حصہ 175 ارب روپے بنتا تھا، تاہم اضافی رقم کی فراہمی کو بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات اور ان کی اجازت سے مشروط کیا گیا تھا۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ خیبرپختونخوا نے ضم شدہ اضلاع کو 11ویں قومی مالیاتی کمیشن میں ان کا جائز حصہ دینے کی شرط بھی رکھی تھی۔ وفاق نے اس شرط سے اتفاق کیا اور اسے این ایف سی کی کارروائی کا حصہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع کو مقررہ حصہ 6 ماہ کے اندر نہ ملنے کی صورت میں ساتویں این ایف سی کے تحت سمری اور آرڈیننس لانے کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا۔
’عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر مفاہمتی یادداشت پر دستخط نہیں ہوئے‘
مزیدپڑھیں:ڈھاکا:معروف اداکارہ رِدھیکا رِدھی کی لاش برآمد
سہیل آفریدی کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات نہ کرائے جانے کے باعث خیبرپختونخوا حکومت نے اضافی رقم سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر دستخط نہیں کیے۔
انہوں نے کہاکہ مالی سال 27-2026 کے صوبائی بجٹ میں وفاقی گرانٹ کی اضافی رقم بھی شامل نہیں کی گئی، کیونکہ اس حوالے سے کوئی حتمی اتفاق رائے موجود نہیں تھا۔
‘6.4 ارب روپے کی کٹوتی کی تجویز’
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے بتایا کہ 5 اگست کو وزارت خزانہ نے صوبے کو واجب الادا 6.4 ارب روپے براہ راست منہا کرنے کی تجویز دی۔
ان کے مطابق صوبائی حکومت نے نہ تو اس مجوزہ کٹوتی کی منظوری دی اور نہ ہی اس سے اتفاق کیا۔ محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا نے 13 اگست کو وفاق کو خط ارسال کرکے کٹوتی پر واضح طور پر عدم رضامندی ظاہر کردی۔
سہیل آفریدی نے کہاکہ آئین کا آرٹیکل 164 وفاق کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ صوبے کو واجب الادا رقوم میں یکطرفہ طور پر کٹوتی کرے۔ ان کے بقول کسی بھی کٹوتی کے لیے واضح آئینی یا قانونی بنیاد کے ساتھ صوبائی حکومت کی رضامندی بھی ضروری ہے۔
‘صوبائی رضامندی کے بغیر لین دین نہ کرنے کی ہدایت’
وزیراعلیٰ کے مطابق صوبائی مشیر خزانہ مزمل اسلم نے اکاؤنٹنٹ جنرل خیبرپختونخوا کے متعلقہ افسران سے فوری ملاقات کی، جس کے بعد صوبے کی رضامندی کے بغیر رقم منہا نہ کرنے سے متعلق تحریری ہدایات جاری کی گئیں۔
اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو کو بھی ہدایت کی گئی کہ صوبائی حکومت کی واضح منظوری کے بغیر کسی ایسے لین دین کو درج یا نافذ نہ کیا جائے جو مجوزہ کٹوتی سے متعلق ہو۔
سہیل آفریدی نے بتایا کہ خیبرپختونخوا حکومت قومی مالیاتی کمیشن کے آئینی حق کے حصول کے لیے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کرچکی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت این ایف سی کے تحت اپنے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور وفاق کو غیر منظور شدہ مفاہمتی یادداشت کی بنیاد پر یکطرفہ طور پر رقم منہا کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیاکہ خیبرپختونخوا اپنے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام قانونی اور آئینی راستے اختیار کرے گا اور صوبے کے مالیاتی حصے کے ایک ایک روپے کا دفاع کیا جائےگا۔









