راولپنڈی میں پولیس نے ٹک ٹاکر شمسو عرف عائشہ گلمنہ کے قتل کے مقدمے میں ایک نامزد ملزم اور تین سہولت کاروں کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔
شمسو بی بی کو 14 اگست کو تھانہ ٹیکسلا کی حدود میں فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا۔ اس واقعے سے متعلق درج ہونے والی ایف آئی آر میں ان کے والد کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی گذشتہ تین، چار برس سے ٹک ٹاک پر موجودتھیں اور ان کے 13 لاکھ فالوورز بھی تھے۔
اس مقدمے کے تفتیشی افسر سب انسپیکٹر محمد فیاض نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ شمسو بی بی کے قتل کے مقدمے میں نامزد ایک ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جن پر ایف آئی آر کے مطابق مقتولہ کو کال کر کے گھر سے باہر بُلانے کا الزام ہے۔تفتیشی افسر کے مطابق مقدمے میں نامزد دو مزید ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ ملزمان کا تعلق جنوبی وزیرستان سے ہے اور وہ اس واقعے کے بعد روپوش ہوگئے ہیں۔ تاہم سب انسپیکٹر محمد فیاض کے مطابق جیوفینسنگ سے معلوم ہوا ہے کہ شمسو بی بی کے قتل کے وقت دونوں ملزمان کے موبائل فونز کی لوکیشن مری کی آ رہی ہے۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزمان کے زیر استعمال موبائل فونز کی لوکیشن جائے حاثہ پر نہ ہونے کی وجہ سے یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ ٹک ٹاکر کو کرائے کے قاتلوں کے ذریعے قتل کروایا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ اس واقعہ کے بعد دونوں ملزمان روپوش ہوگئے ہیں اور ان کے گھروں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔
اس مقدمے کی ایف آئی آر کے مطابق مقتولہ فون کال سننے کے بعد اپنے بہن اور بھائی کو لے کر اپنے والد کے گھر جانے کے لیے اپنی گاڑی پر نکلیں اور اس کے بعد فیصل ٹاؤن کے قریب راستے پر موجود دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔
ایف آئی آر کے مطابق گولی شمسو بی بی کی گردن پر لگی جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئیں، جبکہ فائرنگ کے نتیجے میں گاڑی، جس کو مقتولہ کے بھائی چلا رہے تھے، بے قابو ہوکر مخالف سمت سے آنے والے ڈمپر سے ٹکرا گئی۔اس حملے میں مقتولہ کے بھائی اور بہن بھی زخمی ہوئے۔
ایف آئی آر میں مقتولہ کے والد نے مؤقف اپنایا ہے کہ ان کی بیٹی کو ‘رقم کے لین دین پر قتل کیا گیا ہے اور یہ کہ انھیں ان کی بیٹی نے بتایا تھا کہ دو ملزمان نے نہ صرف ان سے پیسے لیے ہوئے تھے بلکہ انھیں قتل کی دھمکیاں بھی دے رہے تھے۔
دوسری جانب اس مقدمے کے تفتیشی افسر سب انسپیکٹر محمد فیاض کا کہنا ہے کہ تفتیش کے لیے مختلف ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جو کہ اس ضمن میں مختلف جگہوں سے شواہد اور دیگر معلومات بھی حاصل کر رہی ہیں۔
مزید پڑھیں:ہاکی ورلڈ کپ میں پاکستان اور ویلز کا میچ 3-3 گول سے برابر
انھوں نے کہا کہ مقتولہ کے زیر استعمال موبائل فون کا بھی فارنزک کروایا جارہا ہے اور ان افراد کو بھی شامل تفتیش کرنے کے لیے قانونی کارروائی جاری ہے، جن کے ساتھ مقتولہ زیادہ رابطے میں رہی ہیں۔









