بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

حکومت کا لیسکو، میپکو کو موجودہ شکل میں نجی شعبے کو فروخت کرنے کا فیصلہ

وزارت نجکاری نے رقبے کے لحاظ سے ملک کی دو بڑی بجلی کی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں، لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (LESCO) اور ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (MEPCO) کو چھوٹی کمپنیوں میں تقسیم کرنے کے بجائے موجودہ شکل میں ہی نجکاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ یہ فیصلہ نجکاری کمیشن (پی سی) کی جانب سے تشکیل دی گئی ٹیکنیکل کمیٹی کی سفارشات کے بعد کیا گیا، جسے لیسکو اور میپکو کو نجکاری سے قبل 2 یا 3 چھوٹی ڈسکوز میں تقسیم کرنے کی فزیبلٹی کا جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

کمیٹی نے نتیجہ اخذ کیا کہ دونوں کمپنیوں کی موجودہ حیثیت برقرار رکھتے ہوئے نجکاری کی جائے، کیونکہ ان کی بائیفریکیشن سے نجکاری کے عمل میں مزید تاخیر کا خدشہ ہے۔

ٹیکنیکل کمیٹی کے چیئرمین نجکاری کمیشن کے ایڈوائزر (پاور) ساجد اکرم تھے، جبکہ دیگر ارکان میں پاور ڈویژن کے جوائنٹ سیکریٹری (نجکاری) غلام رسول، نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر (ٹیرف) عمران حفیظ اور پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (پی پی ایم سی) کے مینیجنگ ڈائریکٹر عابد لودھی شامل تھے۔

کمیٹی کو لیسکو اور میپکو کو چھوٹی کمپنیوں میں تقسیم کرنے کی فزیبلٹی کا جائزہ لینے، نیشنل الیکٹریسٹی پلان، پاور پالیسی اور جاری نجکاری پروگرام کے تناظر میں اس ری اسٹرکچرنگ کے اسٹریٹجک فوائد و نقصانات کا تجزیہ کرنے اور ماضی میں ایسی کسی کمیٹی کی تشکیل اور اس کی سفارشات کا جائزہ لینے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔

دریں اثنا، نجکاری کمیشن نے لیسکو اور میپکو میں پرائیویٹ سیکٹر کی پارٹیسپیشن کے لیے فنانشل ایڈوائزری سروسز فراہم کرنے کی غرض سے فنانشل ایڈوائزر کی ہائرنگ کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیشن نے متعلقہ تجربہ رکھنے والی انفرادی کمپنیوں یا کنسورشیمز سے اس پراسیس میں حصہ لینے کے لیے پروپوزلز طلب کیے ہیں۔

میپکو کو 1998 میں انکارپوریٹ کیا گیا تھا اور یہ جنوبی پنجاب کے 13 ایڈمنسٹریٹو ڈسٹرکٹس کو بجلی فراہم کرتی ہے۔ تقریباً 8.76 ملین کنزیومرز کے ساتھ یہ کنزیومر بیس کے لحاظ سے ملک کی سب سے بڑی پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی ہے۔ اس کا نیٹ ورک 82,000 کلومیٹر سے زائد ڈسٹری بیوشن لائنز اور 780 سے زیادہ گرڈ اسٹیشنز پر مشتمل ہے۔

مزیدپڑھیں:ہتھکڑیوں میں جکڑے برائیڈن کارس پاکستان کیخلاف دوسرے ٹیسٹ سے باہر

لیسکو نے جولائی 1998 میں پبلک لمیٹڈ کمپنی کے طور پر آپریشنز شروع کیے اور لاہور سمیت قصور، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب اور اوکاڑہ کے اضلاع میں تقریباً 7.05 ملین کنزیومرز کو بجلی فراہم کرتی ہے۔

دونوں کمپنیوں کو بجلی چوری، لائن لاسز اور ریکوریز کے حوالے سے پرفارمنس چیلنجز کا سامنا ہے۔ مالی سال 2024-25 کے آڈٹس کے مطابق دونوں ڈسکوز کی مجموعی پرفارمنس غیر تسلی بخش رہی۔

لیسکو سسٹم ماڈرنائزیشن، اے ایم آئی اور ڈیجیٹل بلنگ پر کام کر رہی ہے جبکہ 2029 تک کنزیومر بیس کو اسمارٹ میٹرنگ پر منتقل کرنے کا ٹارگٹ ہے۔ تاہم ٹرانسفارمرز اور میٹرز کی شارٹیج کے باعث نئے کنکشنز اور خراب آلات کی ری پلیسمنٹ متاثر ہوئی ہے۔

میپکو بھی گرڈ ماڈرنائزیشن، اے ایم آئی ڈپلائمنٹ اور ڈیجیٹل بلنگ پر فوکس کر رہی ہے تاکہ ٹرانسپیرنسی، ریکوریز اور کسٹمر سروسز کو بہتر بنایا جا سکے۔

موجودہ فارم میں نجکاری کا فیصلہ حکومت کو ری اسٹرکچرنگ سے وابستہ اضافی وقت اور ایڈمنسٹریٹو کمپلیکیشنز سے بچانے میں مدد دے گا۔