بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پمز اسپتال آتشزدگی: ’ہر کوئی اپنی جان بچانے کی کوشش کر رہا تھا

اسلام آباد: پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 15 نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد واقعے کی مزید تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔

عینی شاہد نے بتایا کہ آگ لگنے کے بعد اسپتال کے اندر شدید دھواں بھر گیا تھا اور ہر کوئی اپنی جان بچانے کے لیے باہر کی جانب بھاگ رہا تھا۔

ان کے مطابق آگ صبح تقریباً 6 بجے لگی۔ واقعے کے بعد لوگوں نے اسپتال کے اندر جانے کی کوشش کی، تاہم سیکیورٹی گارڈ نے انہیں روک دیا۔ بعد ازاں لواحقین زبردستی اندر داخل ہوئے اور اوپر پہنچے تو ہر طرف دھواں ہی دھواں تھا۔

عینی شاہد نے بتایا کہ نرسری کے دونوں گیٹ بند تھے اور انہیں کھولنے کی کوشش کی گئی، تاہم گیٹ نہیں کھلے۔ آگ پھیلنے کے ساتھ دھواں بھی تیزی سے بھر گیا، جس کے باعث اوپری منزل سے خواتین تیزی سے نیچے کی جانب آنے لگیں۔

ان کے مطابق صورتحال انتہائی خوفناک تھی اور اسپتال میں موجود افراد اپنی جانیں بچانے کے لیے بھاگ رہے تھے۔

عینی شاہد کا کہنا تھا کہ ریسکیو ٹیموں نے جب بچوں کو نرسری سے باہر نکالا تو ان کے جسم بری طرح جھلس چکے تھے اور آگ سے جھلسنے کے باعث بچے سیاہ ہوگئے تھے۔

واقعے کے بعد پمز اسپتال کی نرسری میں حفاظتی انتظامات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے طریقہ کار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 15 نومولود بچے جاں بحق ہوئے۔ واقعے کی وجوہات اور ممکنہ غفلت کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔