اسلام آباد پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 15 نومولود بچوں کی ہلاکت پر لواحقین نے اسپتال انتظامیہ کے خلاف سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
متاثرہ بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ جس وقت آگ لگی، اس وقت انکیوبیشن سینٹر میں عملہ موجود نہیں تھا۔ لواحقین کے مطابق انہیں صرف یہ بتایا گیا کہ ان کے بچے جاں بحق ہوگئے ہیں، تاہم انہیں واقعے سے متعلق مکمل معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
والدین نے الزام عائد کیا کہ ’’یہ سب کچھ جان بوجھ کر کیا گیا‘‘ اور دعویٰ کیا کہ ان کے بچے غائب کیے گئے ہیں۔
متاثرہ والدین کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے بچوں کے کپڑے تک نہیں دیکھے، اس لیے انہیں یقین دلایا جائے کہ ان کے بچے واقعی آتشزدگی میں جھلس کر جاں بحق ہوئے۔
ایک متاثرہ خاتون نے الزام عائد کیا کہ آتشزدگی کے بعد تقریباً ایک گھنٹے تک کوئی ڈاکٹر یا عملہ وہاں نہیں آیا۔ ان کا سوال تھا کہ اگر نرسری میں اتنی شدید آگ لگی تھی تو دوسرے وارڈز میں موجود کسی شخص کو معمولی خراش تک کیسے نہیں آئی۔
لواحقین نے واقعے کی شفاف اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے بچوں کی ہلاکت کے حوالے سے حقائق سے آگاہ کیا جائے اور تمام سوالات کے واضح جواب دیے جائیں۔
واضح رہے کہ بدھ کی صبح پمز اسپتال کی نرسری میں خوفناک آتشزدگی کے واقعے میں 15 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے تھے۔
واقعے کی وجوہات اور مبینہ غفلت کے تعین کے لیے تحقیقات جاری ہیں، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی سانحے کا نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطحی انکوائری کے احکامات جاری کیے ہیں۔









