بھارتی وزارت دفاع کے مطابق وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے سرکاری ادارے ‘ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن’ (ڈی آر ڈی او)کی جانب سے تیار کردہ تمام روایتی میزائل سسٹمز کی ٹیکنالوجی مقامی پیداوار کے لیے بھارتی صنعت کو منتقل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
اس اقدام کو سرکاری کمپنیوں اور تحقیقی لیبارٹریوں پر مشتمل دفاعی شعبے میں ایک بڑی اور اہم تبدیلی قرار دیا جارہا ہے۔
بھارتی وزارت دفاع کے بیان کے مطابق نجی کمپنیاں اب تکنیکی قابلیت، سرٹیفیکیشنز اور دیگر قانونی تقاضے پورے کر کے اس ٹیکنالوجی اور پیداواری حقوق کے لیے مقابلہ کر سکیں گی۔
وزارت کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا بنیادی مقصد ملکی پیداواری صلاحیتوں کو بڑھانا، دفاعی صنعتی بنیاد کو مضبوط کرنا اور مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز سمیت دیگر ٹیکنالوجی پارٹنرز کے لیے سپلائی چین میں شرکت کے مواقع پیدا کرنا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق حالیہ برسوں میں بھارت میں نجی اسلحہ ساز کمپنیوں نے فوجی پیداوار بڑھانے پر اپنی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ کیا ہے، بڑے صنعتی گروپس گولہ بارود، ڈرونز، ایرو اسپیس اور ملٹری الیکٹرانکس میں بھاری سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور اب انہوں نے میزائل بنانے کی تنصیبات پر بھی توجہ مرکوز کر دی ہے۔
مزید پڑھیں:عمران خان کا ذکر، سابق کپتان جاوید میانداد آبدیدہ؛ فوری رہائی کا مطالبہ
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے قریبی ساتھی اور معروف تاجر گوتم اڈانی کی کمپنی ‘اڈانی ڈیفنس اینڈ ایرو اسپیس’ نے بھی 2024 میں اتر پردیش میں گولہ بارود اور میزائل بنانے کی تنصیبات پر 30 ارب بھارتی روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کے منصوبوں کا اعلان کیا تھا۔









