بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

غزہ، بچوں کی پتنگ اُڑانا بھی اسرائیلیوں کے لیے خوف کی علامت بن گیا

 جنگ اور تباہی سے پہلے ہی متاثرہ غزہ (gaza)کے بچوں سے اب پتنگ بازی کی خوشی بھی چھننے لگی ہے اسرائیلی دھمکیوں کے بعد والدین کو اپنے بچوں کو پتنگیں اڑانے سے روکنے کی اپیل کی گئی ہے۔
غزہ میں مقامی سماجی اور فلاحی تنظیموں پر مشتمل کمیٹیوں نے والدین سے کہا ہے کہ وہ بچوں کو پتنگ اڑانے سے روکیں تاکہ کسی ممکنہ خطرے سے ان کی جانیں محفوظ رکھی جاسکیں۔

یہ فیصلہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی اس دھمکی کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ غزہ سے اسرائیل کی جانب پتنگیں، غبارے یا ڈرون بھیجنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور متعلقہ علاقوں کو خالی کرانے کے احکامات دیے جاسکتے ہیں۔

غزہ سٹی کی ایک ماں نے بتایا کہ اس کا 10 سالہ بیٹا ہر گرمیوں میں گلی کے بچوں کے ساتھ پتنگ اڑاتا تھا لیکن اب خوف کے باعث وہ اسے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

مزیدپڑھیں:امریکا جب چاہے ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتا ہے، ٹرمپ کی نئی دھمکی

مقامی کمیٹیوں نے اپنے بیان میں کہا کہ بچوں کو کھیل سے روکنے کا مقصد ان کی آزادی محدود کرنا نہیں بلکہ ان معصوم جانوں کو ممکنہ خطرات سے بچانا ہے کیونکہ غزہ کے بچے پہلے ہی محفوظ زندگی اور کھیلنے کے بنیادی حق سے محروم ہوچکے ہیں۔

تازہ صورتحال میں اسرائیل کا کہنا ہے کہ سرحد کی جانب جانے والی پتنگیں سیکیورٹی خدشات پیدا کر رہی ہیں جبکہ حماس نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جنگی کارروائیوں کے لیے نئے جواز تلاش کر رہا ہے۔

غزہ کے لیے یہ صورتحال ایک اور تلخ حقیقت بن گئی ہے جہاں جنگ نے بچوں سے گھر، اسکول اور محفوظ زندگی کے بعد اب ان کی پتنگوں کی خوشی بھی چھین لی ہے۔