بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

صدر ٹرمپ کی ایران کے محفوظ ترین جوہری مقام کو جلد نشانہ بنانے کی دھمکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ(Donald Trump) نے ایک بار پھر ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا بہت جلد ایران میں واقع ’پک ایکس ماؤنٹین‘ کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کے اس مقام پر جوہری سرگرمیاں جاری رہیں تو امریکا کارروائی کر سکتا ہے۔

امریکی رپورٹس کے مطابق پک ایکس ماؤنٹین کو ایران کے نطنز جوہری مرکز کے قریب واقع ایک انتہائی محفوظ مقام سمجھا جاتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق پک ایکس ماؤنٹین، جسے ’کولنگ گزلا‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، میں زیرِ زمین انتہائی محفوظ سرنگوں کے کمپلیکس موجود ہیں، جس کی وجہ سے اسے ایران کے حساس جوہری پروگرام سے منسلک اہم مقامات میں شمار کیا جاتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں ایران کے خلاف ممکنہ امریکی کارروائی کے حوالے سے واضح اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اس مقام کو ’بہت جلد‘ نشانہ بنا سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے ممکنہ کارروائی کے وقت یا طریقہ کار کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

ٹرمپ کے مطابق امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر روس اور یوکرین کا دورہ کریں گے، جہاں وہ جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی امن تجویز پیش کریں گے۔

مزیدپڑھیں:امریکا نے سعودی عرب کو 5 ارب ڈالر مالیت کے بم فروخت کرنے کی منظوری دے دی

رپورٹس کے مطابق امریکی وفد پہلے ماسکو میں روسی قیادت سے ملاقات کرے گا، جس کے بعد کیف جانے کا امکان ہے۔ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے بھی وٹکوف اور کشنر کے اتوار کو کیف پہنچنے کی تصدیق کی ہے۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ دونوں امریکی نمائندے جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ٹھوس تجویز لے کر جا رہے ہیں۔ تاہم روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی اور مستقل امن کے حوالے سے اہم اختلافات تاحال برقرار ہیں۔

امریکی صدر کی جانب سے ایک ہی وقت میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کا عندیہ اور روس، یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے نئی سفارتی کوششیں عالمی سطح پر امریکی خارجہ پالیسی کے دو اہم محاذوں کی جانب توجہ مرکوز کر رہی ہیں۔