بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ سے قبل پاکستانی کھلاڑیوں کے فون تحویل میں لیے جانے کا دعویٰ

انگلینڈ کے خلاف تیسرے اور آخری ٹیسٹ سے قبل پاکستان کرکٹ ٹیم ایک بار پھر غیر معمولی صورتِ حال کے باعث خبروں میں آگئی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کی جانب سے ٹیم کے کھلاڑیوں کے موبائل فون تحویل میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

بھارتی نیوز ویب سائٹ این ڈی ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ پی سی بی نے پاکستان ٹیم کے کھلاڑیوں اور دیگر ارکان کے موبائل فون اپنے پاس رکھ لیے ہیں اور یہ فون ایجبسٹن میں ہونے والے تیسرے ٹیسٹ کے اختتام تک بورڈ کی تحویل میں رہیں گے۔

تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ٹیم کے کن کھلاڑیوں یا ارکان کے موبائل فون لیے گئے ہیں۔ پی سی بی کی جانب سے بھی تاحال اس معاملے کی کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی اور نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ موبائل فون تحویل میں لینے کی اصل وجہ کیا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ سے قبل پی سی بی نے ٹیم اور کوچنگ اسٹاف میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی ہیں۔ کئی کھلاڑیوں اور کوچز کو فارغ کیے جانے کے بعد ٹیم پہلے ہی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

مزیدپڑھیں:’الفا براوو چارلی‘ کے گل شیر کا والدین سے متعلق کون سا پچھتاوا آج بھی انہیں تڑپاتا ہے؟

بین الاقوامی کرکٹ میں موبائل فون کے استعمال پر پہلے ہی کچھ پابندیاں موجود ہیں۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے قواعد کے مطابق میچ کے دوران مخصوص محدود علاقوں، جن میں ڈریسنگ روم بھی شامل ہے، کھلاڑیوں اور ٹیم کے دیگر ارکان کو موبائل فون یا دوسرے مواصلاتی آلات رکھنے اور استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔

آئی سی سی کے آرٹیکل 4 کے تحت پلیئنگ ممبرز اور آفیشلز کے لیے مخصوص محدود علاقے میں موبائل فون، لیپ ٹاپ یا ایسے دیگر مواصلاتی آلات لے جانا یا استعمال کرنا ممنوع ہے۔ اسی طرح ایسے ٹیلی فون کے استعمال کی بھی اجازت نہیں جو باہر سے کال وصول یا اندر سے کال کر سکے۔

تاہم رپورٹس میں جس طرح پی سی بی کی جانب سے پوری ٹیم کے موبائل فون ٹیسٹ مکمل ہونے تک تحویل میں رکھنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، وہ عام میچ ڈے پابندیوں سے مختلف اقدام دکھائی دیتا ہے۔

اب تک پی سی بی نے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، اس لیے موبائل فون تحویل میں لینے کی وجہ کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا ممکن نہیں۔ یہ بھی واضح نہیں کہ یہ فیصلہ ٹیم کے تمام ارکان پر لاگو کیا گیا ہے یا صرف بعض افراد کے موبائل فون لیے گئے ہیں۔

ایجبسٹن میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تیسرا اور آخری ٹیسٹ میچ اس صورتحال کے پس منظر میں مزید توجہ حاصل کر رہا ہے، جبکہ شائقین پی سی بی کی جانب سے اس غیر معمولی اقدام کی وضاحت کے منتظر ہیں۔