پی ٹی وی کے پرانے اور کلاسک ڈراموں ،سنہرے دن‘ اور ’الفا براوو چارلی‘ میں اپنی شاندار اداکاری سے لوگوں کے دل جیتنے والے ریٹائرڈ کرنل قاسم شاہ(Qasim Shah) نے اپنی زندگی کے ایک بڑے دکھ اور پچھتاوے کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب ماں باپ اس دنیا سے چلے جاتے ہیں تو ان کی چھوٹی چھوٹی باتیں اور اپنی کی گئی غلطیاں انسان کو بہت یاد آتی ہیں اور دل میں پچھتاوا رہ جاتا ہے۔
کیپٹن گل شیر کے کردار سے شہرت پانے والے قاسم شاہ حال ہی میں ایک نجی چینل کے پروگرام میں شریک ہوئے، جہاں ان سے زندگی کے ایسے پچھتاوے کے بارے میں سوال کیا گیا جو آج بھی انہیں یاد ہو۔
اس سوال کے جواب میں انہوں نے اپنی والدہ کے ساتھ پیش آنے والا ایک ایسا واقعہ سنایا جس کا انہیں آج بھی سب سے زیادہ افسوس ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایک دن وہ اپنی والدہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے لیکن ان کی توجہ موبائل فون پر تھی۔ ان کی والدہ تقریباً 15 منٹ تک ان سے باتیں کرتی رہیں، مگر وہ فون میں مصروف رہے اور انہیں زیادہ توجہ نہ دے سکے۔
قاسم شاہ کے مطابق اس موقع پر ان کی والدہ نے اداس ہو کر کہا، ’لگتا ہے تم مجھ سے بات نہیں کرنا چاہتے، مجھے نہیں معلوم کہ میری زندگی کے کتنے دن باقی ہیں۔‘ اور وہ یہ کہہ کر وہاں سے اٹھ کر چلی گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت انہوں نے والدہ کی بات کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا اور کہا، ’’امی، آپ ہمیشہ جذباتی ہوجاتی ہیں، آپ کہیں نہیں جارہی ہیں۔‘‘ لیکن اس گفتگو کے صرف 20 دن بعد ان کی والدہ انتقال کرگئیں۔
مزیدپڑھیں:نئے صوبوں کے قیام کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی، رانا ثناء اللہ
قاسم شاہ کا کہنا تھا کہ آج بھی انہیں اس بات کا بہت افسوس ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں معلوم ہوتا کہ ان کی والدہ اتنی جلدی دنیا سے چلی جائیں گی تو وہ اپنا فون توڑ دیتے اورسارا وقت اپنی ماں کے ساتھ گزارتے۔
انہوں نے لوگوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اپنے والدین، بہن بھائیوں اور خاندان کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں، کیونکہ یہی رشتے زندگی کی اصل دولت ہیں اور نامعلوم بعد میں ان سے ملنے کے لیے کتنا انتظار کرنا پڑے۔
قاسم شاہ نے اپنی والدہ سے متعلق ایک اور واقعہ بھی یاد کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ وہ ایک تقریب میں شرکت کے لیے پنو عاقل جا رہے تھے۔ روانگی کے وقت ان کی والدہ نے پوچھا کہ وہ کتنے دن کے لیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ صرف دو دن کے لیے۔
قاسم شاہ کے مطابق ان کی والدہ یہ سن کر حیران ہوگئیں، جیسے دو دن بھی بہت لمبا عرصہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ واقعی وہ دو دن ان کے لیے بہت طویل ثابت ہوئے، کیونکہ جب وہ واپس گھر پہنچے تو ان کی والدہ اس دنیا میں موجود نہیں تھیں۔
اپنے والد کے بارے میں بات کرتے ہوئے قاسم شاہ نے ایک اور واقعہ بیان کیا جس کا انہیں آج بھی افسوس ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شادی کے کچھ ہی عرصے بعد ان کی پوسٹنگ ملتان میں ہوئی تھی اور وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔ اس دوران ان کے والد نے خواہش ظاہر کی کہ وہ بھی ان کے ساتھ جائیں۔
قاسم شاہ نے بتایا کہ چونکہ ان کے والد شدید بیمار تھے، اس لیے انہیں یہ فکر تھی کہ واپسی پر وہ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کیسے کریں گے۔ اور وہ ان کی بات نہیں مان رہے تھے۔ اسی پریشانی میں انہوں نے اپنے والد سے غصے اور سخت لہجے میں بات کرتے ہوئے کہہ دیا کہ ’’آپ کے ساتھ جانے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘‘
قاسم شاہ نے کہا کہ، ’یہ بات والد کو بہت بری لگی حالانکہ مجھے اس کا فوراً احساس ہوگیا تھا اور میں نے اپنے والد سے معافی بھی مانگ لی تھی، لیکن آج مجھے لگتا ہے کہ وہ وقت دوبارہ واپس نہیں آسکتا۔‘
انہوں نے والدین کے حوالے سے لوگوں کو اہم پیغام دیتے ہوئے کہا کہ جب تک ماں باپ ہمارے ساتھ ہیں، ان کی بات سننی چاہیے، ان کے ساتھ وقت گزارنا چاہیے اور ان سے نرمی سے پیش آنا چاہیے، کیونکہ ان کے جانے کے بعد صرف یادیں اور پچھتاوے باقی رہ جاتے ہیں۔









