بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

26ویں چائنا انٹرنیشنل فیئر فار انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ میں چین میں سرمایہ کاری کے بڑھتے مواقع نمایاں

بیجنگ :26واں چائنا انٹرنیشنل فیئر فار انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ 8 سے 11 ستمبر تک چین میں منعقد ہوا۔ 129 ممالک اور خطوں سمیت 30 بین الاقوامی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 1،200 سے زائد سرکاری اداروں اور کاروباری وفود نے میلے میں شرکت کی، جو اس ایونٹ کی تاریخ میں شریک ممالک اور وفود کی تعداد کے لحاظ سے ایک نیا ریکارڈ ہے۔ نمائش کا رقبہ بھی گزشتہ ایڈیشن کے مقابلے میں 80 ہزار مربع میٹر بڑھایا گیا۔ میلے کے ذریعے عالمی سرمایہ کاری اور تعاون کے لیے چین کے دوستوں کے حلقے” کو مزید وسعت ملی، جبکہ پہلی مرتبہ فن لینڈ اور سعودی عرب کو “دوہرے مہمان ممالک” کا درجہ دیا گیا۔غیر ملکی سرمایہ کار ہمیشہ سے چین کو سرمایہ کاری کے لیے ایک اہم مقام سمجھتے ہیں۔ 2025 کے اختتام تک، چین میں غیر ملکی سرمایہ کاری کرنے والے اداروں کی تعداد 5 لاکھ 33 ہزار تک پہنچ گئی، جبکہ ان کی مجموعی سرمایہ کاری کا حجم تقریباً 4 ٹریلین امریکی ڈالر رہا۔چین کی وزارت تجارت کے مطابق، چین میں غیر ملکی سرمایہ کاری اب نہ صرف افرادی قوت اور زمین جیسے روایتی عوامل کی لاگت کو اہمیت دے رہی ہے بلکہ صنعتی نظام، جدید انفراسٹرکچر، مؤثر سپلائی چین، متحرک اختراعی ماحول اور اعلیٰ معیار کے باصلاحیت افراد کی دستیابی پر بھی توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ “چائنا اپرچونٹی 2.0 اس میلے میں بار بار استعمال ہونے والی ایک اہم اصطلاح بن گئی ہے۔رواں سال جنوری سے جولائی تک چین کی ہائی ٹیک صنعتوں میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں سال بہ سال 32.7 فیصد کا اضافہ ہوا، جو ملک کی مجموعی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا 41.6 فیصد بنتاہے۔ چین میں امریکا، یورپی یونین اور دیگر ممالک کے چیمبرز آف کامرس کی جانب سے جاری کردہ حالیہ رپورٹس سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بیشتر غیر ملکی کمپنیوں نے چین میں اچھا منافع حاصل کیا ہے، جبکہ چین میں اپنی سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو وسعت دینے کے حوالے سے ان کی دلچسپی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔حال ہی میں چین کی وزارت تجارت نے ملک بھر میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے 84 اہم نئے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ ان منصوبوں میں مجموعی طور پر 19.46 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری شامل ہے اور یہ الیکٹرو مکینیکل آلات، کیمیائی توانائی، آٹوموبائل اور صحت کی دیکھ بھال سمیت مختلف شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ اقدامات غیر ملکی سرمایہ کاروں کو “چائنا اپرچونٹی 2.0 کے تحت چین کی ترقی سے فائدہ اٹھانے کے نئے مواقع فراہم کرتے ہیں۔