خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں پولیو کیس سامنے آنےکے بعد ملک میں رواں سال رپورٹ پولیو کیسز کی تعداد 6 ہو گئی ہے۔متاثرہ بچے کا تعلق تحصیل جمرود کی یونین کونسل غنڈی اے سے ہے۔
رواں سال 6 کیسز میں سے بنوں سے 3 ، شمالی وزیرستان ، خیبر اور سندھ کے علاقے سجاول سے ایک ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔ اس سال چار بڑی پولیو مہمات میں 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو متعدد بار ویکسین پلائی گئی۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) کے مطابق خیبر کی تحصیل جمرود کی یونین کونسل غنڈی اے کے 7 سالہ بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
این ای او سی کے مطابق رواں سال رپورٹ ہونے والے 6 پولیو کیسز میں سے 5 کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے۔ خیبر، پشاور اور جنوبی خیبر پختونخوا کو پولیو کے حوالے سے ہائی رسک علاقے قرار دیا گیا ہے۔
نئے پولیو کیس کی رپورٹ کے بعد ضلع خیبر میں ویکسینیشن کا عمل مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہائی رسک علاقوں میں بچوں کو زبانی اور انجیکشن کے ذریعے پولیو ویکسین پلانے اور لگانے کی مہم کی تیاری بھی کی جا رہی ہے۔
این ای او سی حکام نے والدین پر زور دیا ہے کہ پولیو کے خاتمے کے لیے وہ اپنے بچوں کو ویکسین کی تمام تجویز کردہ خوراکیں لازمی دلوائیں۔
2025 میں پاکستان میں پولیو وائرس کے مجموعی طور پر 31 کیسز رپورٹ ہوئے۔ جن میں سے خیبر پختونخوا 20 کیسز کے ساتھ سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ تھا۔
اس کے علاوہ سندھ میں 9 ، پنجاب اور گلگت بلتستان میں ایک ایک کیس رپورٹ ہوا تھا جبکہ بلوچستان میں پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا تھا۔
گزشتہ سال اقوام متحدہ کی نگرانی میں پولیو کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے ایک آزاد بورڈ نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ 37 سال کی محنت اور 22 ارب ڈالر خرچ کرنے کے باوجود دنیا تاحال پولیو کے مکمل خاتمے سے دور ہے۔
مزید پڑھیں:پی ایم ایس امتحانات، عمر کی حد اور چانسز میں اضافہ کر دیا گیا، نوٹیفکیشن جاری
انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ بورڈ (آئی ایم بی) نے رواں سال پاکستان میں نئے پولیو کے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد انتباہ جاری کرکے کہا تھا کہ بیماری کے خاتمے کی کوششیں ناکام ہو رہی ہیں۔









