بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

چوتھا روز: پی ٹی آئی لانگ مارچ آج خیبر پہنچے گا، صوبائی کابینہ کا اجلاس بھی طلب

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا لانگ مارچ چوتھے روز میں داخل ، آج قافلہ پشاور کے مضافاتی علاقے متنی سے خیبر ضلع کی جانب روانہ ہو گا، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ کا اجلاس بھی طلب کر لیا ہے۔

لانگ مارچ عمران خان کی رہائی سمیت متعدد مطالبات کے حق میں 4 اکتوبر کو لکی مروت کے گنڈی چوک سے شروع ہوا تھا۔ مارچ ملتوی کرنے کے لیے وفاقی حکوت نے پی ٹی آئی کے ساتھ 2 اور 3 اکتوبر کو 2 ادوار میں مذاکرات کیے تاہم فریقین کے مابین اتفاق رائے نہ ہو سکا۔

پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق لانگ مارچ کا قافلہ کوہاٹ سے منگل کی رات گئے متنی پہنچا۔ ابتدائی منصوبے کے مطابق قافلے نے کوہاٹ سے براہ راست پشاور جانا تھا اور رات متنی کے قریب قیام کرنا تھا تاہم پی ٹی آئی نے منگل کو مارچ کا روٹ تبدیل کر دیا۔

کوہاٹ کے یونیورسٹی چوک میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ضلع خیبر کے رہائشیوں کی جانب سے مارچ کے شرکاء کی میزبانی کی خواہش کے اظہار کے بعد منصوبہ تبدیل کیا گیا۔

سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ قافلہ آج خیبر جائے گا، جہاں سے کل پشاور شہر آئے گا۔ میں اور میرے ساتھی اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی آج پشاور کے سول سیکرٹریٹ میں صوبائی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کریں گے۔ اجلاس میں صوبائی حکومت سے متعلق امور زیر بحث آنے کا امکان ہے۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں کہ لانگ مارچ یا وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال بھی اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہو گی یا نہیں۔

گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی سے لانگ مارچ ختم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر پارٹی اپنا احتجاج ختم کر دے تو حکومت اس کے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات کرے گی۔

وزیراعظم نے پی ٹی آئی سے اپیل کی کہ خدارا ہوش کے ناخن لیں۔ خدارا اپنا لانگ مارچ اور دھرنا ختم کریں، اگر آپ اسے ختم کر دیں گے تو ہم یقیناً آپ کے ساتھ بیٹھ کر بات کریں گے۔دوسری جانب حکومتی رہنماؤں نے لانگ مارچ کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔

مزید پڑھیں:ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے رقم غائب؛ عدالت کا صارف کو رقم واپس کرنے کا حکم

وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کو اسلام آباد میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا، جبکہ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے کافی نرمی برتی جاچکی ہے اور یہ ملک کا “آخری لانگ مارچ” ہو گا۔