بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

صرف 300 دن باقی فلکیاتی کیلنڈر کے تاریخی واقعے کے لیے الٹی گنتی شروع

فوربز کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، فلکیاتی کیلنڈر کے ایک انتہائی اہم اور تاریخی واقعے کے لیے الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔ دنیا بھر کے ماہرین فلکیات، خلائی سائنسدان اور سورج گرہن کے شوقین سیاح اب اس لمحے کے انتظار میں ہیں جب 2 اگست 2027 کو اگلا مکمل سورج گرہن (Total Solar Eclipse) رونما ہوگا۔ اس تاریخ تک پہنچنے میں اب صرف 300 دن باقی رہ گئے ہیں، اور اس گرہن کی اہمیت اس کی غیر معمولی طوالت اور بہترین جغرافیائی مقام کی وجہ سے کئی گنا بڑھ گئی ہے۔

گرہن کا مرکزی مقام اور پٹی (Path of Totality):
یہ مکمل سورج گرہن زمین کے ایک وسیع حصے پر سایہ فگن ہو گا، تاہم اس کا مکمل نظارہ صرف ایک مخصوص اور تنگ پٹی میں ممکن ہو گا جسے “پاتھ آف ٹوٹلٹی” (Path of Totality) کہا جاتا ہے۔ یہ پٹی بحر اوقیانوس سے شروع ہو کر افریقہ کے شمالی حصے اور پھر مشرق وسطیٰ کے ممالک کو عبور کرے گی۔ ماہرین کے مطابق، جن اہم مقامات اور شہروں سے یہ گزرے گا، ان میں درج ذیل ممالک اور مقامات شامل ہیں:

اسپین (صرف جنوبی ساحلی پٹی): اسپین کے انتہائی جنوب میں واقع کچھ ساحلی علاقے اس گرہن کی زد میں ہوں گے۔
جبل الطارق (Gibraltar): یہاں سے بھی اس کا جزوی نظارہ بہترین طریقے سے کیا جا سکے گا۔
مراکش (Morocco): طنجہ (Tangier) اور اس کے اطراف کا شمالی خطہ۔
الجزائر (Algeria): مشرقی ساحلی پٹی اور بڑے صحرائی علاقے، جہاں آسمان صاف ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔

تیونس (Tunisia): اس ملک کا جنوبی اور وسطی صحرائی حصہ۔
لیبیا (Libya): یہ گرہن کا مرکزی ترین اور اہم ترین ملک ہے۔ لیبیا کے صحرائی علاقے اور تاریخی مقامات، جہاںٹوٹلٹی (گرہن کا مکمل پن) اپنی انتہا پر ہو گا۔
مصر (Egypt): مصر کے ساحلی شہر بشمول اسکندریہ، قاہرہ اور دریائے نیل کا ڈیلٹا اس گرہن کی راہ میں ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق، لکسر (Luxor) کے تاریخی مقامات اور مصر کا جنوبی حصہ اس نظارے کے لیے بہترین پوائنٹ ثابت ہو سکتے ہیں۔
سعودی عرب (Saudi Arabia): گرہن کا راستہ بحیرہ احمر کو عبور کرتے ہوئے سعودی عرب کے مغربی ساحلوں، جدہ، اور پھر وسطی علاقوں کے اوپر سے گزرے گا۔
یمن اور صومالیہ: آخر میں یہ جزیرہ نما عرب کے جنوبی سرے اور صومالیہ کو عبور کر کے بحر ہند میں ختم ہو جائے گا۔

6 منٹ اور 23 سیکنڈ کا تاریخی دورانیہ:

اس مکمل سورج گرہن کی سب سے نمایاں بات اس کا غیر معمولی دورانیہ ہے۔ عام طور پر مکمل سورج گرہن کا کلائمکس چند سیکنڈ سے لے کر ڈیڑھ منٹ تک رہتا ہے، لیکن 2027 کا گرہن فلکیاتی حساب سے ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ اس کی کلائمکس یعنی ٹوٹلٹی کا وقت مرکزی مقام (جو کہ مصر یا لیبیا کے صحرا کے پاس ہوگا) پر 6 منٹ اور 23 سیکنڈ تک محیط ہوگا۔ یہ اس صدی کے طویل ترین مکمل سورج گرہن میں سے ایک ہے۔ یہ اتنی طویل مدت ہے کہ اس دوران زمین پر دن کے وقت رات کا سا سماں ہو جائے گا، ہوا ٹھنڈی ہو جائے گی، پرندے خاموش ہو جائیں گے اور ماہرین کے لیے سورج کے کرونوسفیئر (Corona) اور اس کے بیرونی ماحول کا باریک بینی سے مطالعہ کرنے کے لیے ایک نادر موقع ہوگا۔

سیاحتی اور سائنسی اہمیت:

اس گرہن کی آمد نے سیاحت کی صنعت میں ایک نئی ہلچل مچا دی ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک سے لوگ اب ان مخصوص علاقوں کے لیے ہوٹل کی بکنگ اور ٹریول پلان بنا رہے ہیں جہاں یہ گرہن واضح طور پر نظر آئے گا۔ اس کے علاوہ، سائنسی لحاظ سے یہ واقعہ انتہائی اہم ہے کیونکہ اس کا طویل دورانیہ خلائی تحقیق میں کئی نئی معلومات فراہم کر سکتا ہے، خاص طور پر سورج کے مقناطیسی میدان اور اس کی سرگرمیوں کے حوالے سے۔

یہ گرہن فلکیات کے شائقین کے لیے زندگی میں ایک بار ملنے والے موقع کی مانند ہے، اور اس کے لیے تیاریاں عروج پر ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دنیا کے کون کون سے ممالک اس فلکیاتی ایونٹ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ سائنسدانوں اور سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔