وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہاہے کہ پیٹرولیم لیوی کا معاملہ میرے بس سے باہر ہے، عالمی پارٹیز سے پوچھ کر اس میں تبدیلی ہو سکتی ہے ۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی پیٹرولیم کا اجلاس ہوا جس دوران اسد عالم نیازی نے پوچھا کہ حکومت یہ بتائے کہ پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی کیوں لی جارہی ہے ؟
رکن کمیٹی کےسوال پر وفاقی وزیرپیٹرولیم نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ لیوی کا معاملہ میرے بس سے باہر ہے، عالمی پارٹیز سے پوچھ کر اس میں تبدیلی ہوسکتی ہے بجٹ میں لیوی کا ٹارگٹ مقرر کیا گیا تھا سارےایم این ایزنےووٹ دیا تھا ۔
رکن کمیٹی سید نوید قمر نے کہا کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات کو ڈی ریگولیٹ کیوں نہیں کر رہی اورحکومت روزانہ قیمتوں پر گالیاں کیوں کھا رہی ہے ؟جس پر وزیر پیٹرولیم نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت روزانہ کی بنیاد پر اوگرا قیمتوں کا تعین کرتی ہے۔
مزید پڑھیں:جوڈیشل کمیشن ارکان میں ردوبدل کا فیصلہ، بلاول بھٹو کو رکن بنانے کی تجویز
اگرریگولیٹ ہوتا توڈیزل آج 600 روپےلیٹرہوتا اور کہرام مچ جاتا،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزانہ تبدیل نہ کرتے تو بڑے پیمانے پر ذخیرہ اندوزی کا خطرہ تھا۔









