بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) پر پابندیاں عائد کر دیں۔

امریکا کی جانب سے یہ اقدام آئی سی سی کی ایک سابق جج کو نوبل انعام دیے جانے کے محض چند گھنٹوں بعد سامنے آیا ہے۔

عالمی فوجداری عدالت نے اس امریکی اقدام کو ’قانون کی حکمرانی اور بین الاقوامی قانونی نظام کی بنیادوں پر حملہ‘ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے اور اپنے 125 رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ عدالت کے دفاع کے لیے آگے آئیں۔

عدالت کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے ’عدالت تنہا کھڑی نہیں رہ سکتی۔ اس کی تقدیر اب ان ریاستوں کے ہاتھ میں ہے جنہوں نے اسے قائم کیا تھا۔ بات صرف ایک ادارے کے دفاع کی نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی پر مبنی بین الاقوامی نظام کے تحفظ کی ہے‘۔

ٹرمپ کی خواہش ایک بار پھر پوری نہ ہوسکی، امن کا نوبیل انعام جنوبی افریقا کی خاتون وکیل کے نام

ٹرمپ انتظامیہ 2002 میں جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے مقدمات چلانے کے لیے قائم کی گئی اس عدالت کے خلاف طویل عرصے سے مخالفانہ رویے کا اظہار کرتی آئی ہے اور اس سے قبل بھی اس کے پراسیکیوٹرز اور ججوں پر پابندیاں عائد کر چکی ہے۔

عدالت پر پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ایک بیان میں کہا کہ ’صدر ٹرمپ بین الاقوامی فوجداری عدالت کو کبھی بھی امریکیوں پر مقدمہ چلانے کی اجازت نہیں دیں گے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’اسی لیے آج امریکا بین الاقوامی فوجداری عدالت پر پابندیاں لگا رہا ہے۔ ہم اس سرکش عدالت کے ساتھ لین دین پر پابندی عائد کریں گے، ان کے وسائل منقطع کر دیں گے اور اس کے کام کرنے کی صلاحیت کو مفلوج کر دیں گے‘۔

امریکی محکمہ خزانہ نے ابتدائی طور پر 6 ماہ کی رعایتی مدت (گریس پیریڈ) کے ساتھ ان پابندیوں کا اعلان کیا ہے جس میں ٹیلی کام، سافٹ ویئر، پنشن کی ادائیگی اور زیرِ حراست افراد سے متعلق بعض چیزوں میں استثنیٰ دیا گیا ہے۔

مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ پابندیوں کو اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ عدالت اور اس کے رکن ممالک کو امریکی مطابات دور کرنے کا موقع ملے اور اگر ان مطالبات کو پورا نہ کیا گیا تو پابندیوں میں ردوبدل کیا جائے گا۔

امریکا نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو سمیت دیگر اسرائیلی حکام کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے اور ماضی میں افغانستان میں امریکی فوجیوں کے اقدامات کی تحقیقات پر آئی سی سی کی شدید مذمت کی ہے۔

واضح رہے کہ ماضی میں عدالت کو اپنے رکن ممالک کی جانب سے بھرپور حمایت حاصل رہی ہے جن میں امریکا اور ترکیے کے علاوہ یورپی یونین کے تمام ممالک اور نیٹو اتحاد کے تمام ارکان شامل ہیں۔ آئی سی سی کا صدر دفتر بھی یورپی یونین اور نیٹو کے رکن ملک نیدرلینڈز میں واقع ہے۔

مزید پڑھیں:اورکوئی آپشن نہیں، حکومت کو ہمارے مطالبات ماننا پڑیں گے، سہیل آفریدی

خیال رہے کہ ان پابندیوں سے چند گھنٹے قبل ہی جنوبی افریقا کی قانون دان نوی پلے کو نوبل انعام سے نوازا گیا تھا جو 2003 سے 2008 تک آئی سی سی کے اپیلز چیمبر کی رکن رہی ہیں۔ انعام دینے والی کمیٹی نے اسے ایک ایسے وقت میں بین الاقوامی ٹربیونلز کی حمایت کا واضح اشارہ قرار دیا تھا جب ’بین الاقوامی قانون کے اداروں اور ججوں پر سیاسی حملے کیے جا رہے ہیں‘۔