بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

کراچی میں 10دن جبکہ حیدرآباد کے 9 اضلاع میں 15 روز کیلئے دفعہ 144 نافذ

حیدرآباد: کمشنر حیدرآباد فیاض عباسی نے ڈویژن کے تمام 9 اضلاع میں آئندہ 15 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی جس کے تحت عوامی مقامات پر پانچ یا اس سے زائد افراد کے جمع ہونے سمیت مختلف سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

دفعہ 144 کے تحت حیدرآباد، جامشورو، ٹھٹھہ، سجاول، بدین، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہیار، مٹیاری اور دادو میں بغیر اجازت مظاہرے، ریلیاں، جلوس، دھرنے، بھوک ہڑتال اور جلسے کرنے پر پابندی ہوگی۔

احکامات کے مطابق سڑکیں بند کرنے، ٹریفک کی روانی میں خلل ڈالنے، لاؤڈ اسپیکر کے استعمال اور اسلحے کی نمائش کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔

کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے شہر میں 10 دن کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی اور اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔11 اکتوبرسے 20 اکتوبر 2026 تک 5 سے زائد افراد کے اجتماع، احتجاج، ریلیوں اور دھرنوں پر پابندی عائد کردی گئی

کمشنر کراچی سید حسن نقوی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کراچی میں 11 اکتوبر سے 20 اکتوبر2026 تک 5 سے زائد افراد کے اجتماعات، احتجاج، ریلیوں اور دھرنوں پر پابندی عائد کردی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق محکمہ داخلہ سندھ اور پولیس حکام کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ شہر کی اہم شاہراہوں، چوراہوں اور گول چکروں پر احتجاج، مظاہروں اور دھرنوں کے باعث شدید ٹریفک جام ہوتا ہے، جس سے شہریوں کی روزمرہ زندگی متاثر ہوتی ہے اور سیکیورٹی خدشات بھی پیدا ہوتے ہیں۔

مزید بتایا گیا کہ سڑکوں کی بندش سے ہنگامی خدمات کی آمدورفت متاثر ہوتی ہے اور اسپتالوں تک رسائی میں مشکلات پیش آتی ہیں، اس کے علاوہ عوامی اور تجارتی سرگرمیوں میں خلل پڑنے اور امن و امان کی صورت حال خراب ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ عوامی امن و امان برقرار رکھنے، شہریوں کی جان و مال کے تحفظ، عوامی تحفظ و سلامتی یقینی بنانے اور ضروری خدمات کی بلاتعطل فراہمی کے لیے یہ پابندی عائد کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔

کمشنر کراچی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ پابندی پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکے گی۔

شہر میں دفعہ 144 کے تحت متعلقہ تھانوں کے ایس ایچ اوز کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 195(1)(الف) کے تحت تحریری شکایات درج کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے جبکہ خلاف ورزی پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 188 کے تحت کارروائی کی جاسکے گی۔

مزید پڑھیں:ناناپاٹیکر کی موت کی وجہ کیا بنی؟ پوسٹمارٹم رپورٹ میں نئے انکشافات

نوٹیفکیشن میں 5 سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی درج ہے، تاہم اس کا اطلاق مخصوص شرائط اور نوٹیفکیشن کے قانونی متن کے مطابق ہوگا۔