بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نفاذ پر عوامی ردِعمل انتہائی محدود اور مایوس کن قرار

اسلام آباد: خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے بڑے پیمانے پر مزاحمت کے دعوؤں کے برعکس عوام کا ردِعمل انتہائی محدود رہا ہے، جہاں صوبے بھر میں صرف 16 علامتی مظاہرے دیکھنے کو ملے۔

انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے تیار کردہ ایک جامع رپورٹ کے مطابق 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبائی سطح پر عوامی ردِعمل، احتجاجی تحاریک اور مزاحمت کی اپیلوں کے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تحریکِ انصاف کے محاذ آرائی پر مبنی بیانیے اور زمین پر موجود حقیقی عوامی ردِعمل کے درمیان ایک نمایاں اور واضح خلیج دیکھی گئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق صوبے بھر میں ہونے والے تمام 16 علامتی مظاہروں میں سے اکثر میں اوسطاً 100 سے بھی کم افراد نے شرکت کی، جبکہ واحد قابلِ ذکر مظاہرہ 13 اکتوبر کو ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں سامنے آیا جہاں شرکاء کی تعداد 500 سے زائد تھی، تاہم پولیس کی فوری کارروائی کے بعد یہ اجتماع بھی منتشر ہو گیا۔

رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کے شہریوں کی جانب سے احتجاجی اپیلوں سے دور رہنے کی بنیادی وجہ صوبائی حکومت کی پچھلے 13 سالہ ادوارِ اقتدار کی کارکردگی سے شدید عدم اطمینان ہے۔ عوام میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے کے باوجود صوبے میں ترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر رہے جبکہ اس کے برعکس بدامنی اور دہشت گردی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ میں اشارہ دیا گیا ہے کہ پارٹی کے چند سخت گیر عناصر کے علاوہ عام شہریوں کی ایک بہت بڑی اکثریت ریاست یا اس کے اداروں کے ساتھ کسی بھی قسم کی مسلح یا غیر قانونی محاذ آرائی کا حصہ بننے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔

حساس رپورٹ کے لیے پی ٹی آئی کے متعدد منتخب نمائندوں اور کارکنوں سے کیے گئے انٹرویوز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ قومی اور صوبائی اسمبلی کے منتخب نمائندوں کی اکثریت تشدد کے راستے کے بجائے مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل کی حامی ہے۔ اس کے برعکس، چند غیر منتخب شخصیات اور مفاد پرست عناصر اپنے ذاتی اور سیاسی مقاصد کو تحفظ دینے کے لیے عوام اور کارکنوں کو مسلسل اشتعال انگیزی اور ریاستی عمل داری کے خلاف اکسانے میں مصروف رہے۔ تاہم وفاقی مداخلت سے قبل دی جانے والی بدامنی اور سخت مزاحمت کی دھمکیاں عملی طور پر کسی منظم تحریک کا روپ دھارنے میں مکمل طور پر ناکام رہیں۔

انٹیلی جنس رپورٹ میں خیبر پختونخوا کی امن و امان اور طرزِ حکمرانی کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ سیکیورٹی کے سنگین بحران کے پیش نظر کیا گیا۔ رپورٹ میں پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی آپریشنل صلاحیّتوں میں خامیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت کا ردِعمل امن و امان کی خراب صورتِ حال کو سنبھالنے کے لیے نا کافی ثابت ہو رہا تھا، جس کی وجہ سے شہریوں کے تحفظ اور ریاستی قلمرو کو قائم کرنے کے لیے وفاقی مداخلت ناگزیر ہو چکی تھی۔ رپورٹ کے اختتام پر واضح کیا گیا ہے کہ ریاست اپنے اختیار اور قانون کو چیلنج کرنے والی کسی بھی پرتشدد کارروائی سے قانون کے مطابق آخری حد تک سختی سے نمٹے گی۔