حنا جاوید قتل کیس کی ڈی این اے رپورٹ سامنے آ گئی ہے ، رپورٹ کے مطابق گھریلو ملازم ذیشان ارشد کا ڈی این اے مقتولہ حنا جاوید کے ناخنوں کے نمونوں سے میچ کرگیا۔
ڈی این اے رپورٹ کے مطابق قتل میں استعمال ہونے والی چادر سے ذیشان ارشد اور فیصل اصغر کے فنگر پرنٹس ملے، جبکہ حنا جاوید کے جسم پر ملنے والے فنگر پرنٹس بھی ملزم ذیشان ارشد سے میچ کرگئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دروازے کے ہینڈل سے بھی ذیشان ارشد اور فیصل اصغر کا ڈی این اے میچ کرگیا۔ حنا جاوید قتل کیس میں نامزد تینوں ملزمان کے ڈی این اے ٹیسٹ کیے گئے، جن میں مقتولہ کے شوہر فیصل اصغر، گھریلو ملازم ذیشان ارشد اور سسر کے نمونے شامل تھے۔
ڈی این اے رپورٹ کے مطابق مقتولہ کے شوہر فیصل اصغر کا ڈی این اے تین مقامات سے میچ کرگیا۔ تاہم رپورٹ میں سامنے آنے والے شواہد کے باوجود یہ واضح نہیں ہوسکا کہ حنا جاوید کو قتل کس نے کیا۔
مزید پڑھیں:بلآخرچین اور شمالی کوریا کے درمیان 12 سال بعد اہم پل کھول دیا گیا
دوسری جانب مقتولہ کے اہلخانہ نے شروع دن سے پولیس کی تفتیش پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اہلخانہ حنا جاوید قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ بھی کرچکے ہیں۔









