واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کے ایک حکام کے مطابق وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیٹی زکریا کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے، یہ پیش رفت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آئی جس میں انہوں نے عوامی تنقید کو مدنظر رکھتے ہوئے زکریا کو اس نوکری پر دوبارہ غور کرنے کا مشورہ دیا تھا۔
تفصیلات کے مطابق وائٹ ہاؤس سے روانگی کے وقت صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ “میں نے ان سے کہا کہ میرے خیال میں آپ کا خوش رہنا زیادہ بہتر ہے اور مجھے نہیں لگتا کہ آپ اس قسم کے ماحول میں کبھی خوش رہ سکتی ہیں۔ ان معاملات میں کچھ بھی آسان نہیں ہوتا۔” انہوں نے مزید کہا کہ “میں نے ان سے بالکل سچائی کے ساتھ کہا کہ اگر میں آپ کی جگہ ہوتا تو اس عہدے کے بارے میں دوبارہ غور کرتا… اس پر سوچیں، مگر میں یہی کہوں گا کہ آپ دوبارہ غور کریں۔”
بعد ازاں وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے فاکس نیوز نے رپورٹ کیا کہ زکریا پریس سیکرٹری کے عہدے سے منتقل (ٹرانزیشن) ہو رہی ہیں۔ واضح رہے کہ زکریا نے پیر کے روز یہ ذمہ داری سنبھالی تھی اور منگل کو وائٹ ہاؤس میں اپنا پہلا پریس بریفنگ سیشن منعقد کیا تھا۔
انہوں نے بتایا تھا کہ انہیں گزشتہ بدھ کو پریس سیکرٹری کے عہدے کے لیے کال آئی تھی اور گزشتہ جمعے کو کیرولین لیوٹ کی جگہ یہ عہدہ سنبھالنے کی پیشکش کی گئی، جس کے بعد صدر ٹرمپ نے ان کی تعیناتی کا باقاعدہ اعلان کیا۔ اپنے اعلان میں ٹرمپ نے انہیں ایک وکیل (اٹارنی) قرار دیا تھا۔
تاہم، گزشتہ ایک ہفتے کے دوران یہ معاملہ شدید تنقید کی زد میں رہا کہ کیا کیلیفورنیا کی پیپرڈائن یونیورسٹی لاء اسکول سے گریجویٹ زیکریا نے درحقیقت بار کونسل کا امتحان پاس کیا ہے جو انہیں وکیل بناتا ہے۔ جمعرات کے روز فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں زکریا نے تسلیم کیا کہ انہوں نے بار کا امتحان پاس نہیں کیا تھا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل ٹرمپ کی پہلی انتظامیہ کے دوران انتھونی سکاراموچی نے بھی صرف 10 دن کے لیے ڈائریکٹر آف کمیونیکیشن کے طور پر خدمات انجام دی تھیں۔
وفاقی ادارہ شماریات اور صحافتی ذرائع کی اطلاعات کے مطابق، وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیٹی زکریا کو ان کے عہدے سے ہٹائے جانے کے پیچھے سب سے بڑی اور بنیادی وجہ ان کی پیشہ ورانہ اہلیت اور قابلیت کے حوالے سے سامنے آنے والا تنازع اور عوامی تنقید (Public Scrutiny) تھا۔
تفصیلات کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جب کیٹی زکریا کی بطور پریس سیکرٹری تعیناتی کا اعلان کیا تھا تو انہوں نے زکریا کو ایک پیشہ ور “وکیل” (Attorney) کے طور پر متعارف کرایا تھا، کیونکہ انہوں نے کیلیفورنیا کے پیپرڈائن یونیورسٹی لاء اسکول (Pepperdine University Law School) سے قانون کی ڈگری حاصل کر رکھی تھی۔
تاہم، ان کی تعیناتی کے فوری بعد گزشتہ ایک ہفتے کے دوران امریکی میڈیا اور عوامی حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھنے لگا کہ کیا کیٹی زکریا نے قانون کی ڈگری کے بعد باقاعدہ “بار کا امتحان” (Bar Exam) پاس کر رکھا ہے یا نہیں، کیونکہ امریکہ میں بار کا امتحان پاس کیے بغیر کسی فرد کو قانونی طور پر “وکیل/اٹارنی” شمار نہیں کیا جاتا۔
اس شدید عوامی اور میڈیا کے دباؤ کے بعد جمعرات کے روز فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران کیٹی زکریا نے خود اس بات کا اعتراف کر لیا کہ انہوں نے بار کا امتحان پاس نہیں کیا ہے۔ ان کے اس اعتراف کے بعد وائٹ ہاؤس اور صدر ٹرمپ پر شدید تنقید کی گئی کہ انہوں نے ایک ایسی خاتون کو وکیل ظاہر کر کے میڈیا کے سامنے پیش کیا جو قانونی طور پر وکیل کی تعریف پر پوری نہیں اترتی تھیں۔
اسی تنازع، بیانات میں تضاد اور میڈیا کے شدید دباؤ کے باعث صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیٹی زیکریا سے ذاتی طور پر بات کی اور انہیں اس چیلنجنگ عہدے پر برقرار رہنے پر دوبارہ غور کرنے کا مشورہ دیا، جس کے نتیجے میں بالآخر ان کو صرف چند دنوں کے اندر ہی اس عہدے سے ہٹا دیا گیا۔









