گاڑیوں کی صنعت میں 57.77 فیصد، برقی آلات میں 14.25 فیصد اور تمباکو کی صنعت میں 12.61 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی، نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی
ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ تخمینوں کے مطابق مالی سال 2026ء کے دوران پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) 3.65 فیصد ریکارڈ کی گئی، یہ شرح نمو لگائے گئے 3.70 فیصد کے تخمینے سے کم ہے۔
این اے سی نے آج ہونے والے اپنے 118ویں اجلاس میں بتایا کہ زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں کی نظرثانی شدہ شرح نمو بالترتیب 3.50 فیصد، 3.34 فیصد اور 3.81 فیصد رہی جبکہ اس سے قبل ان شعبوں کی شرح نمو بالترتیب 2.89 فیصد، 3.51 فیصد اور 4.09 فیصد تخمینہ کی گئی تھی۔
اجلاس میں مالی سال 2021 سے 2025 تک قومی حسابات کے تخمینوں میں درآمدات کے نظرثانی شدہ اعدادوشمار شامل کرنے کے علاوہ مالی سال 2026-2025 کی پہلی تین سہ ماہیوں کی شرح نمو پر نظرثانی اور چوتھی سہ ماہی کے نئے تخمینے کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس، وزارتِ خزانہ، وزارتِ منصوبہ بندی اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے قومی حسابات کی تیاری کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا گیا۔
معیشت کا حجم
این اے سی کے مطابق مالی سال 2026ء کے قومی کھاتوں کے تازہ ترین اعداد و شمار کی بنیاد پر ملکی معیشت کا مجموعی حجم 126.4 ٹریلین روپے، یعنی تقریباً 450 ارب ڈالر ہوگیا جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ حجم 114.9 ٹریلین روپے یعنی 408.7 ارب ڈالر تھا۔
این اے سی کے اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2026ء کے دوران فی کس آمدن 5 لاکھ 31 ہزار 897 روپے، یعنی ایک ہزار 896 ڈالر رہی۔
زراعت کی شرح نمو 3.50 فیصد ہوگئی
مالی سال 2026-2025 کے لیے زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں کی شرح نمو بالترتیب 3.50 فیصد، 3.34 فیصد اور 3.81 فیصد منظور کی گئی۔
زراعت میں اہم فصلوں کی شرح نمو 0.65 فیصد سے بڑھ کر 1.59 فیصد ہوگئی، جس میں گندم اور مکئی کی پیداوار میں بہتری کا کردار رہا۔ دیگر فصلوں کی شرح نمو 2.43 فیصد سے بڑھ کر 4.28 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
جنگلات کے شعبے کی ترقی کی شرح 10.80 فیصد جبکہ ماہی گیری کے شعبے کی شرح نمو 1.39 فیصد رہی۔ اس کے برعکس مویشیوں کے شعبے کی شرح نمو معمولی کمی کے بعد 3.71 فیصد ہوگئی۔
صنعتی ترقی کی شرح 3.34 فیصد رہی
صنعتی شعبے کی شرح نمو 3.51 فیصد کے سابقہ تخمینے سے کم ہوکر 3.34 فیصد ہوگئی۔ تاہم کان کنی اور کھدائی کے شعبے کی شرح نمو منفی 0.38 فیصد کے بجائے مثبت 1.52 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
بڑے پیمانے کی صنعتوں (ایل ایس ایم) کی شرح نمو 6.11 فیصد سے کم ہوکر 5.01 فیصد ہوگئی۔ گاڑیوں کی صنعت میں 57.77 فیصد، ٹرانسپورٹ آلات میں 42.36 فیصد، برقی آلات میں 14.25 فیصد اور تمباکو کی صنعت میں 12.61 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی۔
اس کے برعکس ادویہ سازی کی صنعت میں 8.87 فیصد، لوہے اور اسٹیل کی مصنوعات میں 7.84 فیصد، کیمیکلز میں 2.53 فیصد اور چمڑے کی مصنوعات میں 1.95 فیصد منفی شرح نمو ریکارڈ کی گئی۔
خدمات کے شعبے کی ترقی کی شرح کم ہوگئی
خدمات کے شعبے کی شرح نمو 4.09 فیصد کے سابقہ تخمینے کے مقابلے میں 3.81 فیصد رہی۔ اطلاعات و مواصلات کے شعبے میں ترقی کی شرح 9.53 فیصد جبکہ مالیاتی اور بیمہ سرگرمیوں میں 4.23 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
تھوک اور پرچون تجارت کی شرح نمو 3.71 فیصد سے کم ہوکر 2.37 فیصد ہوگئی، جبکہ ٹرانسپورٹ اور ذخیرہ کاری کے شعبے کی شرح نمو 2.31 فیصد سے بڑھ کر 3.23 فیصد رہی۔
آخری سہ ماہی میں معاشی ترقی 2 فیصد رہی
قومی اکاؤنٹس کمیٹی کے مطابق مالی سال 2026-2025 کی چوتھی سہ ماہی میں جی ڈی پی کی شرح نمو 2 فیصد رہی جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی سہ ماہی میں یہ شرح 6.07 فیصد تھی۔
چوتھی سہ ماہی کے دوران زراعت کے شعبے نے 3.71 فیصد ترقی کی، جبکہ صنعتی شعبے کی شرح نمو منفی 4.70 فیصد رہی۔ خدمات کے شعبے میں 3.62 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی۔
مزید پڑھیں:سرکاری حج سکیم، واجبات کی دوسری قسط جمع کرانے میں ایک دن باقی، وزارت مذہبی امور
صنعتی شعبے میں بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی کی سرگرمیوں میں 33.19 فیصد منفی شرح نمو رہی، جس کی وجوہات میں کم سبسڈیز، بلند ڈیفلیٹر اور گزشتہ سال کی بلند شرح نمو کے اثرات شامل تھے۔ تعمیراتی شعبے نے 3.52 فیصد ترقی کی۔









