بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

2026ء، نیب کی کارروائیاں، 14.6 ٹریلین کے سرکاری اثاثے واگزار

اسلام آباد: تیسری سہ ماہی میں 9.2 ٹریلین روپے کے سرکاری اثاثے بازیاب، 4 ہزار 280 متاثرین کو 90 کروڑ 84 لاکھ روپے سے زائد منتقل، تحقیقات کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام ’’نیب آئی‘‘ متعارف

قومی احتساب بیورو (نیب) نے رواں سال کی تیسری سہ ماہی کے دوران 9.2 ٹریلین روپے مالیت کے سرکاری اثاثے بازیاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بعد 2026ء کے دوران اب تک بازیاب کیے گئے اثاثوں کی مجموعی مالیت 14.6 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی ہے۔ نیب کی جانب سے 19 اکتوبر کو جاری کردہ اعلامیے کے مطابق بازیاب اثاثوں میں پاکستان ریلویز اور مختلف صوبائی محکموں کی قیمتی اراضی بھی شامل ہے۔

نیب کے مطابق پاکستان ریلویز کے اشتراک سے علاقائی بیوروز کی سطح پر چھ مشترکہ ٹاسک فورسز تشکیل دی گئیں، جن کی کارروائیوں کے نتیجے میں ریلوے کی 2 لاکھ 35 ہزار 622 کنال، یعنی تقریباً 29 ہزار 453 ایکڑ اراضی واگزار کرائی گئی، جس کی مالیت 6.78 ٹریلین روپے بتائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ محکمہ جنگلات، محکمہ مال اور محکمہ شاہرات سمیت مختلف صوبائی محکموں کی 8 لاکھ 66 ہزار 299 ایکڑ اراضی بھی بازیاب کرائی گئی، جس کی مالیت 2.395 ٹریلین روپے ہے۔

اعلامیے کے مطابق تیسری سہ ماہی میں بازیاب ہونے والے اثاثوں کی مالیت پہلی دو سہ ماہیوں میں بازیاب کیے گئے 5.41 ٹریلین روپے کے اثاثوں کے مقابلے میں تقریباً 70 فیصد زیادہ رہی۔

علاقائی سطح پر نیب سکھر نے صوبائی محکمہ مال کی 51.41 ایکڑ اراضی، جس کی مالیت 1.14 ارب روپے ہے، جبکہ پاکستان ریلویز کی 1 لاکھ 79 ہزار 72 کنال اراضی واگزار کرانے کی اطلاع دی، جس کی مالیت 5.06 ٹریلین روپے بتائی گئی ہے۔ نیب بلوچستان نے محکمہ جنگلات کی 8 لاکھ 11 ہزار 967 ایکڑ اراضی بازیاب کرائی، جس کی مالیت 1.71 ٹریلین روپے بیان کی گئی ہے۔

نیب ملتان کے مطابق صوبائی محکموں کی 43 ہزار 28 ایکڑ اراضی، مالیت 102.97 ارب روپے، اور پاکستان ریلویز کی 49 ہزار 426 کنال اراضی، مالیت 1.56 ٹریلین روپے، بازیاب کرائی گئی۔ نیب لاہور نے صوبائی حکومت کی 4 ہزار 380 ایکڑ اراضی، مالیت 563.07 ارب روپے، جبکہ ریلوے کی 7 ہزار 124 کنال اراضی، مالیت 156.10 ارب روپے، واگزار کرائی۔

نیب خیبرپختونخوا نے محکمہ جنگلات اور محکمہ مال کی 6 ہزار 872 ایکڑ اراضی بازیاب کرنے کی اطلاع دی، جس کی مالیت 16.16 ارب روپے ہے۔ مزید برآں بحریہ ٹاؤن اور کوہستان اسکینڈل سے متعلق مقدمات میں پلی بارگین کے ذریعے 2.22 ارب روپے بازیاب کیے گئے۔

نیب نے بتایا کہ متاثرین کو مالی ریلیف فراہم کرنے کے لیے تیسری سہ ماہی کے دوران 4 ہزار 280 افراد کے بینک اکاؤنٹس میں 90 کروڑ 84 لاکھ 20 ہزار روپے منتقل کیے گئے۔ ادارے نے انسدادِ بدعنوانی کے نظام کو مؤثر بنانے اور ادارہ جاتی استعداد بڑھانے کے لیے دیگر ریاستی اداروں کے ساتھ دو مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط بھی کیے، جبکہ بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون کے لیے مزید معاہدوں پر غور جاری ہے۔

اعلامیے کے مطابق نیب نے تحقیقات میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام ’’نیب آئی‘‘ متعارف کرایا ہے، جس کا مقصد انسانی مداخلت سے پیدا ہونے والی غلطیوں اور صوابدیدی عوامل کو کم کرنے کے ساتھ کارروائیوں کی رفتار اور مؤثریت بڑھانا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان اینٹی کرپشن اکیڈمی کے تحت افسران کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے مختلف کورسز، ورکشاپس اور تربیتی پروگرام بھی جاری رکھے گئے۔

نیب کا کہنا ہے کہ مارچ 2023ء سے ستمبر 2026ء تک مجموعی طور پر 26.1 ٹریلین روپے مالیت کے اثاثے بازیاب کیے جا چکے ہیں۔ ادارے کے مطابق بدعنوانی کے خلاف حکمتِ عملی میں قانونی کارروائی، انسدادی اقدامات، سرکاری اثاثوں کی بازیابی اور عوامی آگاہی میں اضافے کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ نیب نے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری وسائل کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

مزید پڑھیں:لاہور ریلوے ورکشاپ سے ڈینگی لاروا برآمد، وزیر صحت کاذمہ داران کیخلاف مقدمے کا حکم

اثاثوں کی بازیابی سے متعلق اعداد و شمار نیب کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق دیے گئے ہیں؛ ان کی آزادانہ تصدیق اس متن کی بنیاد پر نہیں کی گئی۔