پیانگ یانگ/سیول: بین الاقوامی میڈیا اور سوشل میڈیا کے طوفان میں گزشتہ کئی روز سے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی صحت، کوما میں جانے اور موت سے متعلق پھیلنے والی تمام سنسنی خیز اور فرضی خبروں کا بالآخر ڈراپ سین ہو گیا ہے۔ شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے تمام افواہوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کم جونگ اُن کی تازہ تصاویر جاری کر دی ہیں، جن میں وہ اپنی فیملی کے ہمراہ پُراسرار خاموشی توڑتے ہوئے منظرِ عام پر آ گئے ہیں۔ اس پیش رفت نے دنیا بھر میں جاری ان قیاس آرائیوں کو ختم کر دیا ہے جن میں ان کی طبی حالت کو انتہائی تشویشناک قرار دیا جا رہا تھا۔
سوشل میڈیا کی افواہوں اور موت کے جھوٹے دعوے
بین الاقوامی جریدے “انٹرنیشنل بزنس ٹائمز یوکے” کے مطابق، کم جونگ اُن کی اچانک طبعی خرابی، کوما میں جانے اور موت سے متعلق تمام سنسنی خیز دعوے سب سے پہلے سوشل میڈیا صارف “وانجن ژی” کی پوسٹس کے ذریعے وائرل ہوئے تھے۔ ان پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کم جونگ اُن دماغ میں شدید خون بہنے (Brain Hemorrhage) کے باعث کوما میں چلے گئے ہیں اور انہیں علاج کے لیے بیجنگ کے پیکنگ یونین میڈیکل کالج اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں مبینہ طور پر ان کا انتقال ہو گیا اور ان کی لاش خفیہ طور پر واپس شمالی کوریا لائی گئی۔
دی سن سمیت دنیا بھر کے مختلف ذرائع ابلاغ نے ان دعوؤں کو انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی محض قیاس آرائیاں قرار دیا تھا۔ تاہم، اس بات کا کوئی بھی آزاد طبی ثبوت، اسپتال کا ریکارڈ یا مستند سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی تھی۔ جیو نیوز نے بھی اپنی رپورٹ میں واضح کیا تھا کہ شمالی کوریا اور چین نے اس طرح کی کسی بھی مبینہ طبی ایمرجنسی کی تردید یا تصدیق نہیں کی تھی۔
چینی فوج کی تعیناتی اور اقتدار کی منتقلی کے دعوے
سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر یہ دعویٰ بھی زور و شور سے کیا گیا کہ چین نے کم جونگ اُن کی بیٹی کم جو اے کی مدد اور اقتدار کی منتقلی کو مستحکم کرنے کے لیے پیانگ یانگ میں 9 ہزار فوجی بھیجے ہیں۔ بعد ازاں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ اقتدار کم جونگ اُن کی بااثر بہن کم یو جونگ کو منتقل کر دیا گیا ہے۔ چینی فوج کی شمالی تھیٹر کمانڈ کی تیاری بڑھانے اور اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کرنے کے من گھڑت قصے بھی جوڑے گئے، جن کی کوئی حقیقت نہیں تھی۔
دوسری جانب، کورین سینٹرل نیوز AGENCY (کے سی این اے) کے مطابق کم یو جونگ نے 19 اکتوبر کو جاری کردہ اپنے ایک سرکاری بیان میں صرف یہ بتایا کہ شمالی کوریا جنوبی کوریا کی سرحد کے قریب اضافی حربی ہتھیاروں کی تعیناتی اور لاؤڈ اسپیکر نشریات دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہا ہے۔ اس بیان میں اقتدار کی منتقلی کا دور دور تک کوئی اشارہ یا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔
سرکاری میڈیا کی تصدیق اور خاندان کے ساتھ عوامی جلوے
ان تمام بے بنیاد افواہوں کو عملی طور پر اس وقت دفن کر دیا گیا جب کورین سینٹرل نیوز ایجنسی (کے سی این اے) نے باضابطہ طور پر کم جونگ اُن کی نئی تصاویر جاری کیں۔ خبر رساں ادارے یونہاپ کے مطابق، کم جونگ اُن نے 19 اکتوبر کو دارالحکومت پیانگ یانگ میں ملبوسات اور جوتوں کی ایک بڑی نمائش کا باقاعدہ دورہ کیا۔
ان تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کم جونگ اُن کے ہمراہ ان کی اہلیہ ری سول جو اور ان کی لختِ جگر کم جو اے بھی موجود ہیں۔ اگرچہ ان تصاویر سے ان کی اندرونی طبی حالت کا حتمی سائنسی یا آزادانہ تعین نہیں کیا جا سکتا، تاہم ان کا فیملی کے ساتھ یوں پبلک میں ظاہر ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ خیریت سے ہیں اور امورِ سلطنت خود سنبھال رہے ہیں۔
جنوبی کوریا کی انٹیلی جنس رپورٹ اور صحت کا پس منظر
اس پورے تنازع سے چند ہفتے قبل، جنوبی کوریا کے قومی انٹیلی جنس ادارے (این آئی ایس) نے 30 ستمبر کو ارکانِ پارلیمنٹ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ کم جونگ اُن کا وزن تقریباً 140 کلوگرام ہے، تاہم اس وقت بھی ان میں صحت کی خرابی کی کوئی نمایاں یا فوری خطرے کی علامت موجود نہیں تھی۔ کے بی ایس کے مطابق، انٹیلی جنس ادارے نے یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ شدید موٹاپے کے باعث انہیں مستقبل میں امراضِ قلب کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، لیکن حالیہ افواہوں اور اس طبی جائزے کا آپس میں کوئی براہِ راست تعلق ثابت نہیں ہوا۔
کم جو اے کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور جانشینی کی بحث
اس تمام صورتحال کے دوران کم جونگ اُن کی صاحبزادی کم جو اے کی بڑھتی ہوئی سیاسی اہمیت نے دنیا بھر کے ماہرینِ مانیٹرنگ کی توجہ حاصل کی ہے۔ جنوبی کوریا کی انٹیلی جنس کے مطابق، کم جو اے کو مستقبل میں اپنے والد کا جانشین نامزد کرنے کے امکانات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، اگرچہ شمالی کوریا نے تاحال انہیں باضابطہ طور پر جانشین قرار نہیں دیا ہے۔
کم جو اے پہلی بار نومبر 2022 میں ایک میزائل تجربے کے موقع پر دنیا کے سامنے آئیں تھیں اور 2025 میں اپنے والد کے ہمراہ چین کا دورہ بھی کر چکی ہیں۔ اگر وہ آنے والے وقت میں اقتدار کی باگ ڈور سنبھالتی ہیں، تو وہ شمالی کوریا کی تاریخ کی پہلی خاتون سربراہ بن جائیں گی، جو اس بند معاشرے میں ایک بہت بڑا انقلاب ہوگا۔









