پنجاب کے شہر راولپنڈی میں مبینہ طور پر قتل ہونے والی حنا جاوید کے اہلخانہ نے وزیراعلیٰ پنجاب کو خط لکھ کرتحقیقات کیلئے فوری جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ مریم نواز نے متاثرہ خاندان سے ذاتی طور پر ملاقات کرنے کا اعلان کردیا۔
حنا جاوید کے قتل کا واقعہ 20 اگست 2026 کی صبح راولپنڈی کے علاقے لال کرتی میں پیش آیا تھا۔ 45 سالہ حنا جاوید کی لاش ان کے گھر کے باتھ روم سے برآمد ہوئی تھی جن کے ہاتھ پیچھے بندھے تھے، منہ پر کپڑا اور گلے میں بجلی کی تار بندھی ہوئی تھی۔
حنا جاوید کے اہلخانہ نے وزیراعلیٰ پنجاب کو لکھے گئے خط کے ذریعے پولیس انویسٹی گیشن کمیٹی کے نتائج مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے مریم نواز سے براہ راست رابطے کی متعدد کوششیں کیں اس کے علاوہ مختلف فورمز اور حکومتی نمائندوں کے ذریعے بھی پولیس تحقیقات پرتحفظات سے آگاہ کیا۔
اہلخانہ نے کہا کہ ہم قتل کیس کی تحقیقاتی کمیٹی کے نتائج تسلیم نہیں کرتے۔وزیراعلیٰ پنجاب قتل کیس کی فائل کا تفصیلی جائزہ لیں اورغیرجانبدارانہ تحقیقات کیلئے فوری جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے۔
خط کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ ملزمان کوتحفظ نہ دیا جائے اور اہلخانہ کو قانون کے مطابق انصاف فراہم کیا جائے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب نے متاثرہ خاندان سے ذاتی طور پر ملاقات کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کیس کی تحقیقات مکمل ہونے تک ہرپہلو کاجائزہ لیاجائے گا۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ کیس کی تحقیقات ابھی مکمل نہیں ہوئیں،متاثرہ خاندان کوانصاف کی فراہمی کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔
اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی نے تفتیش مکمل کر کے کیس میں نامزد ملزم گھریلو ملازم ذیشان کو مرکزی ملزم قرار دیا اور کہا تھا کہ ملزم ذیشان کی جلد کے ذرات مقتولہ کے ہاتھوں کی انگلیوں کے ناخن میں پائے گئے۔
تحقیقاتی کمیٹی نے انکشاف کیا کہ ملزم ذیشان دیگر سنگین مقدمات میں ریکارڈ یافتہ بھی ہے اس نے مقتولہ سے جنسی زیادتی کی اور بیڈ کی چادر سے گلا دبا کر قتل کرنے کا اعتراف کیا، کسی کے دباؤ سے کسی بے گناہ کو مرکزی ملزم نہیں ٹھہرا سکتے۔
دوسری جانب حنا جاوید قتل کیس میں شریک ملزم قرار دیئے گئے گھریلو ملازم ذیشان ارشد کے اہل خانہ نے اپنے بیٹے کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس اسے مقدمے میں پھنسا رہی ہے اور تشدد کے ذریعے اعتراف جرم پر مجبور کیا گیا ہے۔
راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ذیشان ارشد کے والد محمد ارشد نے دعویٰ کیا کہ قتل کا پورا مقدمہ ان کے بیٹے پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو تقریباً 7 ماہ سے مقتولہ کے گھر ملازمت کر رہا تھا۔
والد محمد ارشد نے کہا کہ انہوں نے گرفتاری کے بعد جیل میں ذیشان سے 2 مرتبہ ملاقات کی جہاں بیٹے نے انہیں بتایا کہ حنا جاوید اس کے لیے ماں جیسی حیثیت رکھتی تھیں۔
ذیشان کے والد نے اپنے بیٹے کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ 20 اگست کی رات حنا جاوید اور ان کے شوہر فیصل اصغر امام کے درمیان جھگڑا ہوا تھا۔ شور سن کر ذیشان کی آنکھ کھلی تو اس نے مبینہ طور پر حنا جاوید کو بھاگتے اور فیصل کو ان کا پیچھا کرتے دیکھا۔
انہوں نے کہا کہ فیصل اصغر امام نے ذیشان کو حنا جاوید کو پکڑنے کا حکم دیا، تاہم اس نے میاں بیوی کے معاملے میں مداخلت سے انکار کردیا تھا۔ فیصل نے ذیشان کو تشدد کا نشانہ بنایا اور مبینہ طور پر اسلحے کے زور پر حنا کو پکڑنے پر مجبور کیا۔
مزید پڑھیں:سہ ملکی سیریز: انگلینڈ نے پاکستان کو جیت کیلئے 242 رنز کا ہدف دے دیا
ذیشان کے والد نے مزید دعویٰ کیا کہ ان کے بیٹے نے فیصل اصغر امام پر حنا جاوید کو قتل کرنے اور بعد ازاں باتھ روم میں لٹکانے کا الزام عائد کیا ہے۔









