علاقائی نمائندوں اور ترقیاتی سیکرٹریٹ (اے آر ڈی سی) کے مشیر برائے اطلاعات محمود جان بابر نے خیبر پختوتونخوا کے 12 اضلاع کے لیے قائم نئے انتظامی ڈھانچے کے نائب چیئرمین ملک خان مرجان کی جانب سے افغان طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے کیے گئے مطالبے کو ان کی ’ذاتی خواہش‘ قرار دیا ہے۔
اس نئے انتظامی سیٹ اپ کا قیام 11 اکتوبر کو صوبے میں گورنر راج اور 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد عمل میں لایا گیا تھا۔ شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے خان مرجان اس سیٹ اب کے وائس چیئرمین ہیں جن کا گزشتہ روز ایک انٹرویو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔
انٹرویو میں انہوں نے افغانستان میں طالبان سے مذاکرات کے لیے قبائلی عمائدین کا وفد بھیجنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بات چیت کے ذریعے سرحد پار حملے روکنے اور سابق قبائلی اضلاع میں امن بحال کرنے کی راہ نکالی جا سکتی ہے۔
خان مرجان کا یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سابق صوبائی حکومت پر وفاقی حکومت اور بعض حلقوں کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مطلوبہ تعاون نہ کرنے اور طالبان کے معاملے پر نرم مؤقف رکھنے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ وفاقی وزرا نے صوبائی حکومت پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں عدم تعاون کا الزام لگایا تھا، تاہم پی ٹی آئی ان الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔
خان مرجان نے انٹرویو کے آغاز میں مطالبہ کرتے ہیں کہ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ 15 سے 20 قبائلی عمائدین پر مشتمل وفد تشکیل دے ، اسے سرکاری حیثیت اور مکمل اختیارات دے اور ایک ہفتے کے لیے افغانستان جا کر مذاکرات کرنے کی اجازت دے۔
ان کے مطابق وفد کو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، حافظ گل بہادر اور سرحد پار سرگرم دیگر عسکریت پسند گروہوں کے تحفظات سننے اور تنازع کی وجوہات سمجھنے کا موقع ملنا چاہیے تاکہ مذاکرات کے ذریعے کسی حل تک پہنچا جا سکے۔
اس معاملے پر سما ٹی وی کے شو میں اینکر پرسن ابصار عالم سے بات کرتے ہوئے مشیر اطلاعات محمود جان بابر نے کہا ہے کہ خان مرجان نے ”بطور قبائلی مشر اپنے لیے کہا ہے کہ۔۔۔ہم ان (افغان طالبان) سے خود بات کر کے انہیں کہتے ہیں کہ یار بس خدا کے لیے یہ (دہشتگرد حملے) چھوڑ دو۔“
انہوں نے مزید واضح کیا کہ کچھ قبائلی رہنما اپنی سطح پہ افغان طالبان سے بات کرنا چاہتے ہیں تو اس میں کوئی برائی نہیں۔ ”بات چیت کا مطلب یہ ہے کہ انہیں رضامند کر کے زندگی کی طرف واپیس لائیں، تو جو بھی قبائلی عمائدین میں سے ایسے کرے گا تو یقیناً حکومت انہیں سپورٹ کرے گی۔“
ادھر اے آر وائے کے پروگرام میں اینکر پرسن ماریہ میمن نے جب ان سے خان مرجان اور پی ٹی آئی کے مؤقف میں فرق کے بارے میں سوال پوچھا تو مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ”فرق یہ تھا کہ سہیل آفریدی صاحب حکومت کے طور پر بات کرنا چاہ رہے تھے جو ریاست کی بات سمجھی جانی تھی اور اس وقت انہوں نے ان (طالبان) کی شرطیں بھی ماننا تھیں اور کچھ اپنی منوانی تھیں۔“
انہوں نے مزید کہا کہ ”اب مرجان صاحب جو بات کریں وہ ان کی کوئی بات نہیں مانیں گے، صرف اپنی بات ان کے ساتھ کریں گے۔“
ان کے مطابق سہیل آفریدی نے طالبان کی کچھ شرائط مان کر بطور وزیر اعلیٰ ان پر عملدرآمد بھی کرانا تھا جبکہ خان مرجان ایک فرد کے طور پر، کونسل ممبر کے طور پر اور علاقائی رہنما کے طور پر افغانستان جانا چاہتے ہیں جو ان کی کوئی بات نہیں مانیں گے۔
مزید پڑھیں:سعودیہ پرداغے گئے 10 بیلسٹک میزائل تباہ کردیے: اتحادی فوج
محمود جان بابر نے ایک بار پھر کہا کہ افغانستان جا کر مذاکرات کرنا ’کوئی بری بات نہیں‘، لیکن وہاں جا کر کوئی معاہدہ کر کے آنا یا ان کی کوئی شرائط مان کر آنا ٹھیک بات نہیں کیونکہ یہ صرف ریاست کا کام ہے اور وہ ریاست ہی کرے گے۔









