بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

آزاد کشمیر: جیپ گہری کھائی میں جا گری، 7 افراد جاں بحق

آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں جیپ تقریباً ایک ہزار فٹ گہری کھائی میں جا گری جس کے نتیجے میں جیپ میں سوار تمام 7 افراد جاں بحق ہوگئے۔

ریسکیو حکام کے مطابق حادثہ نواحی علاقے نکیاں شکر پٹیاں سیری درہ روڈ پر پیش آیا، حادثے کے وقت جیپ میں مجموعی طور پر 7 افراد سوار تھے اور تمام افراد جان کی بازی ہار گئے۔

ریسکیو ٹیموں نے جائے حادثہ پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کیں اور تمام لاشوں کو کھائی سے نکال لیا۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں میڈیکل ریسکیو وہیکل کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئیں۔ تاہم کھائی تقریباً ایک ہزار فٹ گہری ہونے کے باعث لاشوں کو نکالنے کے آپریشن میں مشکلات کا سامنا رہا۔ریسکیو ٹیم کے مطابق تمام لاشیں نکال لی گئی ہیں۔

ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ حادثے کی وجوہات کے بارے میں فی الحال کچھ کہنا ممکن نہیں۔

حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد میں جیپ کا ڈرائیور عبدالوحید، محمد خالد، شفاعت حسین، فیاض احمد، سعد ریاض، اعظم ریاض اور افتخار احمد شامل ہیں۔

ایک ہی گھر سے باپ اور 2 جوان بیٹوں کے جنازے
آزاد کشمیر کے نواحی علاقے میں مسافر جیپ گہری کھائی میں گرنے سے ایک ہی خاندان کے باپ اور 2 جوان بیٹوں کی موت نے علاقے کو سوگوار کردیا۔

سٹی پولیس مظفرآباد کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق مسافر جیپ شکر پٹیاں سے سیری درہ جا رہی تھی کہ پوڈیمار کے مقام پر موڑ کاٹتے ہوئے تقریباً ایک ہزار فٹ گہری کھائی میں جا گری۔ حادثے کے نتیجے میں 7 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

اس المناک واقعے میں ایک ہی گھر کے باپ اور 2 جوان بیٹوں کی ہلاکت نے اہل خانہ کو شدید صدمے سے دوچار کردیا، ایک ہی خاندان کے تین افراد کی موت نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے جبکہ حادثے کے بعد پہاڑی راستوں کی حفاظت اور سڑکوں کی حالت پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

پہاڑی علاقوں میں گہری کھائیوں کے قریب حفاظتی جنگلوں، مضبوط دیواروں اور مناسب سڑکوں کی عدم موجودگی مسافروں کے لیے خطرات بڑھا سکتی ہے، ایسے مقامات پر حفاظتی اقدامات کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، جہاں معمولی غفلت بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔

حادثے کے بعد سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے معیار اور حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

اگر کسی مقام پر ناقص تعمیر، حفاظتی اقدامات میں غفلت یا ترقیاتی فنڈز کے استعمال میں بے ضابطگی کے شواہد سامنے آئیں تو ان کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہییں، تاہم کسی فرد یا ادارے کو شواہد کے بغیر ذمہ دار قرار دینا مناسب نہیں ہوگا۔

آزاد کشمیر حکومت، محکمہ شاہرات اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ حادثے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے شفاف تحقیقات کرائی جائیں، سڑک کی تعمیر ومرمت کے ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے اور خطرناک مقامات پر فوری حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔

سڑکیں، بنیادی سہولیات اور عوامی فنڈز کا شفاف استعمال ان کے بنیادی حقوق سے جڑے معاملات ہیں، متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے کہ عوامی شکایات کا ازالہ کریں اور مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

سات قیمتی جانوں کے ضیاع کے بعد اہم سوال یہی ہے کہ کیا متعلقہ ادارے اس سانحے سے سبق سیکھتے ہوئے خطرناک راستوں کو بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں گے؟

یاد رہے گزشتہ روز آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں بچوں کو اسکول لے جانے والی گاڑی دریائے نیلم میں گرنے کے نتیجے میں 4 بچے جاں بحق جبکہ 4 زخمی ہو گئے تھے۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق بچوں کو لے جانے والی جیپ نگدر سے آٹھمقام جا رہی تھی، نگدرگھوڑے نکہ کے مقام پر حادثے کا شکار ہو گئی، حادثے کا شکار تمام بچوں کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔ جاں بحق ہونے والوں میں 2 بھائی اور بہن بھائی شامل ہیں۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو اہلکار اور متعلقہ اداروں کی ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کردیں۔

ریسکیو اہلکاروں نے دریا سے حسنین ولد ظہور عمر 12 سال ، زرید ولد ظہور ، تیفو ولد مشکور عمر 10 سال اور علین دختر مشکور کی لاشیں نکال کر مقامی اسپتال منتقل کر دیں، جبکہ زخمی بچوں کو بھی طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

مزید پڑھیں:NCCIAکارروائی، کمسن بچوں کے استحصال میں ملوث مبینہ نیٹ ورک بے نقاب

زخمیوں میں راشدہ بی بی زوجہ ظہور، مشکور ولد ظفر اللہ عمر 50 سال، عبداللہ والد مشکور عمر 9 سال اور ایمن دختر ظہور عمر 12 سال شامل تھیں۔