بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

مسئلہ کشمیر پر تاریخ، قانون ، مذہب ، معاشرت، آبادیات، جُغرافیہ اور معیشت سب کا وزن پاکستان سے الحاق کی جانب ہے، سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ

امریکہ میں پاکستانی سفارت خانے میں یومِ سیاہ کشمیر(Kashmir Solidarity day) کے موقع پر ایک تقریب منعقد کی گئی، جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حقِ خودارادیت کی جدوجہد کے لیے پاکستان کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

تقریب میں سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر صدرِ پاکستان، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم کے پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے، جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتِ حال اور کشمیری عوام کو درپیش مشکلات پر مبنی ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947 کو بھارتی افواج کی جموں و کشمیر میں مداخلت تاریخ کا ایک المناک باب ہے، جس کے اثرات آج بھی خطے کے امن و استحکام سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی خواہشات اور حقِ خودارادیت کی حمایت کرتا ہے اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پُرامن حل کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھنے کا عزم

سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پاکستان کی نظر میں بھارتی افواج کا جموں و کشمیر میں داخلہ تقسیمِ ہند کے اصولوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے منافی تھا۔ ان کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں بنیادی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں اور ریاستی جبر سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات قابلِ تشویش ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یومِ سیاہ کشمیر منانے کا مقصد عالمی برادری کو تنازعے کی تاریخی حیثیت یاد دلانا اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اس کے پُرامن اور منصفانہ حل کے عزم کی تجدید کرنا ہے۔

مزیدپڑھیں:فرانس نے سمندری نگرانی کرنے والا طیارہ عارضی طور پر رومانیہ منتقل کر دیا

سفیر پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بین الاقوامی سطح پر سیاسی، سفارتی اور قانونی کوششیں ضروری ہیں۔ ان کے مطابق اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے طے کردہ قانونی دائرے سے انحراف مسئلے کے حل کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

مسئلہ کشمیر پاکستان کی قومی تاریخ کا اہم حصہ ہے

رضوان سعید شیخ نے کہا کہ کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت پر پاکستان میں وسیع اتفاقِ رائے موجود ہے اور یہ قومی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے۔

انہوں نے برصغیر کی تقسیم کے تاریخی پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ برطانوی نوآبادیاتی دور میں خطے کی مختلف ریاستوں کی حیثیت اور مستقبل کے سوالات تقسیم کے عمل سے جڑے ہوئے تھے۔ ان کے مطابق جموں و کشمیر کا تنازعہ تاریخی، سیاسی اور قانونی پہلوؤں کا حامل ہے، جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

سفیر پاکستان نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی قومی شناخت اور تاریخ سے جڑا ایک نامکمل باب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی، حال اور مستقبل کسی بھی تناظر میں کشمیری عوام کی حمایت سے دستبردار نہیں ہوا جا سکتا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا۔

عالمی دارالحکومتوں میں مشترکہ مؤقف اجاگر کرنے پر زور

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کے لیے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں اور کشمیریوں کو مربوط کوششیں کرنا ہوں گی۔

انہوں نے لندن، واشنگٹن، نیویارک، جدہ اور برسلز سمیت اہم عالمی مراکز میں مقیم پاکستانی اور کشمیری برادریوں پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے بارے میں اپنا مؤقف عالمی برادری کے سامنے پیش کریں اور کشمیری عوام کے حقوق سے متعلق آگاہی بڑھانے میں کردار ادا کریں۔

ان کے مطابق عالمی سطح پر مسلسل رابطوں، مؤثر سفارت کاری اور حقائق پر مبنی آگاہی کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنایا جا سکتا ہے۔

دیگر مقررین کے خطاب، تاریخی اور قانونی پہلوؤں پر روشنی

تقریب سے فاؤنڈیشن فار امریکن سیکیورٹی اینڈ ٹیکنالوجی کے صدر علی رضا عنار، دی کامن گراؤنڈز آف یو ایس اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور ڈسکور پاکستان ٹی وی کے صدر ذوالفقار علی کاظمی، جبکہ اٹارنی، مصنف اور پالیسی تجزیہ کار مواحد حسین شاہ نے بھی خطاب کیا۔

مقررین نے اکتوبر 1947 کے واقعات، مسئلہ جموں و کشمیر کے تاریخی پس منظر اور مقبوضہ علاقے میں جاری انسانی و سیاسی صورتِ حال پر گفتگو کی۔ ان کی تقاریر میں تنازعے کے قانونی، تاریخی اور سیاسی پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا اور کشمیری عوام کو درپیش مسائل کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

تقریب کے دوران دکھائی جانے والی دستاویزی فلم میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی اقدامات، مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بنیادی آزادیوں سے متعلق خدشات کو اجاگر کیا گیا۔

مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال پر عالمی برادری کی توجہ کا مطالبہ

اپنے اختتامی کلمات میں سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا کہ کشمیری عوام کئی دہائیوں سے مشکلات اور جبر کا سامنا کر رہے ہیں اور صورتِ حال میں بہتری کے لیے عالمی برادری کی توجہ ضروری ہے۔

انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتِ حال کا نوٹس لیں اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

سفیر پاکستان نے تقریب میں شرکت کرنے والے تمام مقررین اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی شرکت کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کی عکاس ہے۔

تقریب کا اختتام اس عزم کے اعادے پر ہوا کہ پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گا اور مسئلہ کشمیر کے اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق پُرامن اور منصفانہ حل کے لیے سفارتی کوششیں کرتا رہے گا۔