بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بجلی صارفین پر سردیوں میں بھی اضافی بوجھ پڑنے کا خدشہ

دسمبر، جنوری اور فروری بجلی صارفین کے لیے مشکل ترین مہینے ثابت ہوسکتے ہیں، کیونکہ سردیوں کے دوران بجلی کی پیداواری لاگت بڑھنے کے باعث فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ میں دو سے تین گنا اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

پاور ڈویژن ذرائع کے مطابق عالمی منڈی میں ایل این جی، کوئلے اور دیگر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے بجلی کی پیداوار مہنگی ہورہی ہے۔ سردیوں میں پن بجلی کی پیداوار کم ہونے اور مقامی گیس کی قلت کے باعث مہنگے ایندھن پر انحصار بڑھنے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ محدود رکھنے کے لیے گزشتہ مہینوں میں روزانہ دو گھنٹے کی لوڈ مینجمنٹ بھی کی گئی، جبکہ دسمبر سے فروری کے دوران اس میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

دوسری جانب نیپرا نے ستمبر کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی 2 روپے 56 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

درخواست پر سماعت کے دوران سی پی پی اے حکام نے بتایا کہ ستمبر میں بجلی کی اوسط فیول لاگت 10 روپے 2 پیسے فی یونٹ رہی، جبکہ اس کا تخمینہ 7 روپے 46 پیسے فی یونٹ لگایا گیا تھا۔

مزیدپڑھیں:ہانگ کانگ سکسز: دوسرے میچ میں پاکستان نے بھارت کو شکست دے دی

حکام کے مطابق ستمبر میں بجلی کی پیداوار پر مجموعی لاگت 127 ارب 87 کروڑ روپے رہی، جبکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) نے مجموعی طور پر 12 ارب 76 کروڑ یونٹ بجلی فروخت کی۔

پاور ڈویژن حکام کا کہنا تھا کہ ستمبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک ہونے کا خدشہ تھا، تاہم لوڈ مینجمنٹ سمیت مختلف اقدامات کے ذریعے اضافے کو 2 روپے 56 پیسے فی یونٹ تک محدود کیا گیا۔

درخواست منظور ہونے کی صورت میں صارفین پر مجموعی طور پر 32 ارب 66 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ نیپرا نے سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔