وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز(Maryam Nawaz) نے کہا ہے کہ پنجاب کو ڈیجیٹل دور سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اختراعی اصلاحات متعارف کرائی ہیں، صنعتوں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
پیوٹ لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ دنیا بھر میں مضبوط صنعتیں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے انقلابی تبدیلیوں سے گزر رہی ہیں، پنجاب کا ملکی معیشت اور قومی جی ڈی پی میں نمایاں کردار ہے۔ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور معیاری تعلیم سے آراستہ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کی 36 ملین کی ورک فورس کو ہنرمند بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، صوبے میں اب تک چار لاکھ اسکلڈ ورکرز تیار کیے جا چکے ہیں جبکہ مزید چھ لاکھ ہنرمند کارکن فراہم کیے جائیں گے۔ اسکل ڈویلپمنٹ کے تمام شعبوں کو ایک ہی چھت تلے جمع کر دیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔ آسان کاروبار اسکیم کے تحت تقریباً 200 ارب روپے کے قرضے جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ ای بزنس کے ذریعے دو لاکھ سے زائد افراد این او سیز اور دیگر اجازت نامے حاصل کر چکے ہیں۔ پیوٹ شروع کرنے سے پہلے تمام محکموں سے سرخ فیتے کے خاتمے کا عہد لیا گیا ہے۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ پنجاب میں نیا ٹیکس عائد کرنے کے بجائے ٹیکس نیٹ بڑھانے پر توجہ دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں صوبے کا ریونیو 200 ارب روپے سے بڑھ کر ایک کھرب روپے تک پہنچ رہا ہے۔ رشوت لینے والے سرکاری ملازمین کو محکموں سے فارغ کیا جا رہا ہے اور قبضہ مافیا کے خلاف بھی کارروائیاں جاری ہیں۔
صنعتوں کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ ضروری ہے لیکن اس کی آڑ میں کارخانے بند کرانا درست نہیں۔ چیکنگ ضرور ہونی چاہیے، پلانٹ بند کرنا مسئلے کا حل نہیں کیونکہ اس سے مزدور کی دیہاڑی متاثر ہوتی ہے۔ میرا دل نہیں چاہتا کہ کسی کا کاروبار بند کروں، تاہم معیار پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔ عوام کو صاف ماحول اور صحت بخش غذا کی فراہمی حکومت کا ہدف ہے۔
مزیدپڑھیں:پینٹاگون نے فوجی اڈوں کے فریزر خراب ہونے کے واقعے کو مشتبہ سائبر حملہ قرار دے دیا
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں فارماسیوٹیکل انڈسٹری تیزی سے ترقی کر رہی ہے جبکہ 1200 سے زائد اسٹارٹ اپ کام کر رہے ہیں۔ 50 مشترکہ سہولتوں کو یکجا کرکے انڈسٹریل کلسٹرز قائم کیے جا رہے ہیں۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ سپیشل اکنامک زونز اور انڈسٹریل اسٹیٹس رئیل اسٹیٹ کا کاروبار بن کر رہ گئے ہیں۔ اب انڈسٹری کے لیے زمین 80 ہزار سے دو لاکھ روپے ماہانہ لیز پر فراہم کی جائے گی۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے سرمایہ کاروں کی مالی معاونت بھی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بینکوں سے درخواست ہے کہ کاروباری فنانس کی فراہمی کے لیے ضوابط آسان بنائیں۔ ہر صاحبِ حیثیت شخص کو چور سمجھنا درست نہیں، جو بھی کاروبار کرنا چاہتا ہے اسے غیر ضروری سوالات اور رکاوٹوں کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔
وزیراعلیٰ نے صنعتی شعبے میں سرٹیفکیشن اور ٹیسٹنگ کی سہولیات کی کمی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ فیفا اور بڑے ادارے سرٹیفکیشن نہ ہونے کے باعث سپورٹس گڈز نہیں خرید رہے۔ پنجاب میں تیار ہونے والی کٹلری کی گلیزنگ اور میٹریل ٹیسٹنگ کے لیے چین جانا پڑتا ہے، جبکہ مقامی طور پر تیار ہونے والے پنکھوں کی آواز کی جانچ بھی چین میں ہوتی ہے۔
زرعی شعبے کے حوالے سے مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب میں لائیو اسٹاک اور زراعت کے لیے بڑا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ کسانوں کو سبسڈی پر ٹریکٹرز اور سپرسیڈرز فراہم کیے جا رہے ہیں جبکہ پیداوار بڑھانے کے لیے جدید زرعی مشینری بھی لائی جا رہی ہے۔ گزشتہ 20 برس میں صرف تین ہزار ٹریکٹر فراہم کیے گئے، جبکہ رواں سال 45 ہزار ٹریکٹر فراہم کرنے کا ہدف پورا کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان جب جدید مہارتیں اور ہنر سیکھ کر بیرون ملک جائیں گے تو انہیں بہتر ملازمتیں، زیادہ عزت اور بہتر معاوضہ ملے گا۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ بے یقینی، بدامنی، احتجاج اور توڑ پھوڑ کے ماحول میں کاروبار اور صنعتیں ترقی نہیں کر سکتیں۔ وزراء کو بھی ہدایت کی ہے کہ پروٹوکول اور سکیورٹی کم سے کم رکھیں۔مریم نواز شریف نے کہا کہ سڑکیں گزرنے کے لیے ہوتی ہیں، ریڑھیاں لگانے کے لیے نہیں، اسی لیے ریڑھی بانوں کے لیے الگ جگہیں مختص کی گئی ہیں۔ عوام ان کی فیملی ہیں اور انہیں معیاری خوراک کی فراہمی بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک بدلتے ہوئے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوئے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔ سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ماحول کا تحفظ، جدید ٹیکنالوجی اور ہنرمند افرادی قوت ناگزیر ہیں، ایک روپے کی کرپشن بھی ثابت ہوئی تو استعفیٰ دے دوں گی، پنجاب میں کرپشن کے خلاف بھرپور مہم جاری ہے، رشوت لینے والے سرکاری ملازمین کو نوکری سے فارغ کیا جارہا ہے، بدعنوانی کا خاتمہ ترجیح ہے۔









