رائے پور :بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے ضلع دانتے واڑہ کے علاقے کراندول میں اچانک آسمان کا رنگ غیر معمولی طور پر گہرا سرخ ہو گیا، جس کی مناظر سے شہریوں میں شدید خوف وہراس پھیل گیا۔
سمندری طوفان ’ارنب‘ اور خلیج بنگال کی صورتحال:
یہ سنسنی خیز اور حیرت انگیز منظر ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج بنگال سے اٹھنے والے شدید سمندری طوفان ’ارنب‘ کے اثرات کے باعث ریاست چھتیس گڑھ کے مختلف اضلاع اور علاقوں میں موصلادھار بارش، تیز گرد آلود ہواؤں اور مسلسل ابر آلود موسم کا سلسلہ جاری ہے۔
یہ غیر معمولی سرخی مائل منظر طوفان کے آندھرا پردیش کے ساحلی علاقوں سے ٹکرانے کے بعد اندرونِ ملک پیش قدمی کے دوران دیکھا گیا۔ بدھ کے روز ریاستی دارالحکومت رائے پور سمیت کئی ملحقہ اضلاع میں وقفے وقفے سے بارش اور انتہائی ٹھنڈی ہواؤں کے باعث پورا علاقہ گہرے بادلوں کی لپیٹ میں رہا۔ خراب موسم، شدید ترین بارشوں اور تیز طوفانی ہواؤں کی پیش گوئی کے پیش نظر مقامی انتظامیہ نے متاثرہ اضلاع میں جمعرات 29 اکتوبر کے روز تمام تعلیمی ادارے اور اسکول بند رکھنے کا ہنگامی اعلان بھی کیا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز اور عوامی تشویش:
سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کرنے والی متعدد ویڈیوز اور مناظر میں کراندول کے صنعتی اور رہائشی علاقے کا پورا آسمان خونیں گہرے سرخ رنگ میں ڈوبا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ دن کے وقت اچانک اندھیرا چھا جانے اور آسمان کی رنگت سرخ ہو جانے سے مقامی شہریوں، دکانداروں اور راہگیروں میں شدید حیرت، خوف اور تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
بعض مقامی شہریوں اور عینی شاہدین نے اس خوفناک منظر کو سمندری طوفان کے باعث فضا میں پیدا ہونے والی کیمیائی اور موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ قرار دیا۔ تاہم، انتظامیہ اور بین الاقوامی ماہرین کی جانب سے اس غیر معمولی رنگ کی اصل سائنسی وجہ کے حوالے سے اب تک کوئی حتمی اور آزادانہ تصدیق جاری نہیں کی جا سکی ہے۔
سائنسی تجزیہ، ہوائی رفتار اور سرخ مٹی کا کردار:
موسمیاتی ماہرین کے مطابق، اس قسم کے قدرتی مظاہر کے پیچھے تیز ترین ہواؤں اور فضائی ذرات کی سائنس کارفرما ہوتی ہے۔ چھتیس گڑھ کے بعض علاقوں میں ہواؤں کی رفتار 60 سے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی، جبکہ طوفانی جھکڑوں اور آندھی کی رفتار 90 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ چھتیس گڑھ اور دانتے واڑہ کا علاقہ بنیادی طور پر معدنیات خصوصاً لال آئرن (Iron Ore) کی کان کنی کے لیے جانا جاتا ہے۔ تیز طوفانی ہواؤں کے باعث فضا میں معلق ہونے والا گردوغبار، ریت اور سرخ آئرن مٹی کے باریک ذرات بادلوں اور سورج کی روشنی کے انعکاس (Refraction) کے ساتھ مل کر فضا کو سرخ کر دیتے ہیں۔ اس سے قبل دنیا کے دیگر حصوں، خصوصاً آسٹریلیا میں بھی شدید ریتلی آندھیوں اور طوفانوں سے قبل آسمان کے اسی طرح سرخ دکھائی دینے کے مناظر ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔









