بالی وڈ کے معروف فلمساز سنجے گپتا 57 سال کی عمر میں ممبئی میں اپنے گھر میں اچانک گر جانے کے بعد انتقال کر گئے۔
بھارتی اخبار دی انڈین ایکسپریس کے مطابق سنجے گپتا رات کے وقت گھر کے کچن میں گر پڑے جس سے ان کے سر پر چوٹ آئی، جس کے باعث خون زیادہ بہہ جانے سے ان کی موت ہو گئی۔
فلمساز کے قریبی ساتھی اور شاگرد مِلاپ زویری نے بتایا کہ حادثے کے وقت وہ گھر میں موجود تھے، تاہم واقعے کی مکمل تفصیلات تاحال واضح نہیں ہو سکیں۔ ممبئی پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
فلمساز اشوک پنڈت نے سوشل میڈیا پر سنجے گپتا کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سنجے گپتا ایک بہترین کہانی کار، زندہ دل شخصیت اور اپنے کام سے بے حد لگاؤ رکھنے والے فلمساز تھے، ان کی موت بھارتی فلم انڈسٹری کے لیے بڑا نقصان ہے۔
ہدایتکار ہنسل مہتا نے بھی سنجے گپتا کے انتقال پر صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے لیے محض پیشہ ورانہ ساتھی نہیں بلکہ ایک اچھے دوست بھی تھے، جنہوں نے ان کی زندگی کے مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا۔ اداکارہ دیا مرزا، تشار کپور اور مِلاپ زویری سمیت فلم انڈسٹری کی دیگر شخصیات نے بھی سنجے گپتا کی موت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
دریں اثنا پاکستانی گلوکار، گٹارسٹ اور بچوں کے لیے تفریحی پروگرام پیش کرنے والے بلال مقصود نے سنجے گپتا کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
بلال مقصود نے انسٹاگرام پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ سنجے گپتا کے انتقال کی خبر سن کر ان کا دل ٹوٹ گیا، زندگی واقعی کتنی نازک اور غیر یقینی ہے۔
فلم ساز کو محبت سے ’گپٹس‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہوئے بلال مقصود نے لکھا کہ ان کا دل بہت بڑا تھا اور انہیں کہانیاں سنانے کا غیر معمولی ہنر حاصل تھا۔
بلال مقصود کے مطابق ان کے میوزک بینڈ اسٹرنگز اور سنجے گپتا کے درمیان ایک دوسرے کے کام پر بھرپور اعتماد تھا۔ سنجے گپتا ان کی موسیقی پر یقین رکھتے تھے اور وہ ان کے فلمی کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔
اسٹرنگز نے سنجے گپتا کی تین فلموں کے لیے موسیقی اور گیتوں پر کام کیا۔ بینڈ نے فلم ’زندہ‘ (2006) اور ’شوٹ آؤٹ ایٹ لوکھنڈوالا‘ (2007) کے لیے ’یہ ہے میری کہانی‘ اور ’آخری الوداع‘ جیسے گیت ریکارڈ کیے، جبکہ فلم ’شوٹ آؤٹ ایٹ وڈالا‘ (2013) کی موسیقی کی تیاری میں بھی حصہ لیا۔
بلال مقصود نے کہا کہ سنجے گپتا کے ساتھ کام کے دوران ہمیشہ گرم جوشی اور باہمی احترام کا ماحول رہا۔ وہ انہیں ہمیشہ محبت اور اچھے جذبات کے ساتھ یاد رکھیں گے۔
انہوں نے سنجے گپتا کے اہلخانہ اور عزیزوں سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مشکل وقت میں ان کے لیے صبر، حوصلے اور سکون کی دعا کرتے ہیں۔ بلال مقصود نے اپنے پیغام کا اختتام ’اللہ مرحوم کو سکون عطا کرے‘ کے مفہوم کے ساتھ کیا۔
خیال رہے سنجے گپتا ماضی میں پونے سے ممبئی جاتے ہوئے ایک سنگین حادثے کا شکار بھی ہوئے تھے، جس میں انہیں متعدد چوٹیں آئی تھیں، تاہم وہ صحت یاب ہو گئے تھے۔
مزیدی پڑھیں:ہانگ کانگ سکسز 2026: افغانستان نے پہلی بار ٹائٹل اپنے نام کرلیا
سنجے گپتا اداکار سنجے دت کی متعدد فلموں میں ہدایت کاری کے فرائض انجام دے چکے ہیں جن میں 2002 میں ریلیز ہونے والی فلم کانٹے، 2004 میں ریلیز ہونے والی فلم مسافر، 2006 میں فلم زندہ اور 2007 میں فلم شوٹ آؤٹ ایٹ لوکھنڈ والا قابلِ ذکر ہیں۔









