حکومت کو ری ٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ نئی آسان رجسٹریشن اسکیم کے تحت اب تک صرف 1750 دکانداروں نے فائدہ اٹھایا۔
ریٹیلرز کی اسکیم سے صرف 220 نئے دکاندار ٹیکس نیٹ میں شامل ہوئے۔ ٹیکس نیٹ میں شامل نہ ہونے والے دکانداروں پر جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے ریٹیلرز کی ٹیکس اسکیم سے50 ارب روپے جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا مگر حکومت کو ری ٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے میں مشکلات کا سامنا ہے، نئی آسان رجسٹریشن اسکیم کے تحت اب تک صرف 1750 دکانداروں نےفائدہ اٹھایا۔
ایف بی آر ملک میں ری ٹیل شعبے کے 36 لاکھ ممکنہ نان فائلرز کی نشاندہی کرچکا ہے، ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے ایف بی آر کا مارکیٹوں کی جیوٹیگنگ کا منصوبہ ہے، ٹیکس نیٹ میں شامل نہ ہونے والے دکانداروں پر جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں۔
نان فائلرز کو پہلے ماہ 10 ہزار، دوسرے ماہ 25 ہزار روپے جرمانہ ہوگا، تیسرے ماہ نان فائلز کو 50 ہزار روپے جرمانہ ہو سکتا ہے۔ ٹیکس نیٹ میں شامل نہ ہونے والے دکانداروں کی دکانیں سیل کرنے کا بھی اختیار حاصل ہے۔
واضح رہے کہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ میں دو مرتبہ توسیع کی گئی تھی، اکتوبر تک ایف بی آر کو 76 لاکھ انکم ٹیکس گوشوارے موصول ہوگئے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ماہ اکتوبر میں ٹیکس وصولیوں کے مقررہ ہدف کے مقابلے میں 157 ارب روپے کے شارٹ فال کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایف بی آر نےاکتوبر کے پہلے 30 روز میں 975 ارب روپے کے ٹیکس محصولات جمع کیے، ماہانہ وصولیوں کا ہدف ایک ہزار 132 ارب روپے مقرر تھا۔
تاریخ کی سب سے بڑی کرپٹو ڈکیتی:ایف بی آئی نے شمالی کوریا کوذمہ دار قراردیدیامزید پڑھیں:ـ
دوسری جانب مالی سال کے پہلے چار ماہ، جولائی سے اکتوبر کے دوران مجموعی طور پر 4 ہزار 58 ارب 50 کروڑ روپے ٹیکس جمع کیا گیا،اس مدت کے لیے 4 ہزار 185 ارب روپے کا ہدف مقرر تھا۔ اس طرح چار ماہ کی ٹیکس وصولیاں بھی مقررہ ہدف سے 126 ارب 50 کروڑ روپے کم رہیں۔









