عالمی منڈی میں خام تیل(Crude Oil) کی قیمتوں میں پیر کو ایک فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی وجہ ایران اور قطر کے حکام کے درمیان مسلسل تیسرے روز جاری مذاکرات کو قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مذاکرات کا مقصد ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے۔
عالمی بینچ مارک برینٹ خام تیل کے سودے 1.59 ڈالر یا 1.40 فیصد کمی کے بعد 111.84 ڈالر فی بیرل پر آگئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت 1.56 ڈالر یا 1.50 فیصد گر کر 102.56 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
برینٹ خام تیل اکتوبر کے اختتام پر چھ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا، جس کی وجہ امریکی انتخابات کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھنے کے خدشات تھے۔
کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر کے مطابق گزشتہ ہفتے قیمتوں میں نمایاں اضافے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں تکنیکی بنیادوں پر کمی دیکھی گئی ہے۔ سفارتی پیش رفت کی امید اور ہفتے کے اختتام پر کسی بڑے فوجی تصادم کی عدم موجودگی نے بھی قیمتوں پر دباؤ کم کیا ہے۔
مزیدپڑھیں:قطر سے پاکستان آنے والے ایل این جی جہاز پر آبنائے ہرمز کے قریب حملہ
تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران سے متعلق بیانات میں سختی آنے کی صورت میں برینٹ خام تیل 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتا ہے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں پر حملوں کے باعث عالمی توانائی اور شپنگ اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ادھر اوپیک پلس نے اتوار کو دسمبر کے لیے تیل کی پیداوار کے اہداف برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔









