حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے کے لیے مذاکرات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوامی ریلیف پیکج سے متعلق بات چیت آخری مرحلے میں داخل ہوگئی۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی زیرقیادت جماعت اسلامی کے وفد نے اسلام آباد میں ملاقات کی۔ ملاقات میں عالمی سطح پر توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے تناظر میں عام شہریوں، بالخصوص کم آمدنی والے گھرانوں کو ریلیف فراہم کرنے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ، سیکرٹری خزانہ اور پیٹرولیم ڈویژن کے اسپیشل سیکرٹری بھی ملاقات میں شریک تھے۔
دفتر خارجہ کے مطابق فریقین نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے قابل عمل اقدامات پر گفتگو کی اور توانائی کی قیمتوں اور عوامی سہولت سے متعلق معاملات پر مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت عالمی معاشی مشکلات کے باوجود عوامی فلاح اور عام شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کو ترجیح دے رہی ہے۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جانب سے پیش کی گئی 6 تجاویز میں سے 4 اہم نکات پر حکومت سے بات چیت ہوئی ہے۔
جن میں پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ، صارفین کے لیے ریلیف پیکج، پبلک ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں کمی اور زرعی شعبے سمیت 800 سی سی سے زائد گاڑیوں کے مالکان کو ریلیف فراہم کرنا شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں فریق پیٹرولیم لیوی میں مرحلہ وار کمی اور دیگر ریلیف اقدامات کے حوالے سے ورکنگ پیپرز تیار کریں گے۔ حکومت اپنا ورکنگ پیپر مکمل کرے گی، جبکہ دونوں جانب کے نمائندوں کا اجلاس بدھ کو دوبارہ ہو گا، جس میں پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کے بعد پارٹی کے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ حافظ نعیم الرحمان اس وقت ترکیہ میں ہیں اور انہیں مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کردیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا بنیادی مقصد عوام کو خاطر خواہ ریلیف دلانا ہے۔ جبکہ پیٹرولیم لیوی اور آئل ریفائنریز کے منافع کے معاملے پر جماعت اسلامی کے تحفظات برقرار ہیں۔
جماعت اسلامی کے نائب امیر نے واضح کیا کہ پارٹی مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گی، تاہم اگر مجوزہ ریلیف پیکج سے عوام کو خاطر خواہ فائدہ نہ پہنچا تو احتجاجی تحریک بھی آگے بڑھائی جائے گی۔
جماعت اسلامی نے مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں نومبر کے وسط میں ملتان سے اسلام آباد کی جانب دوبارہ مارچ شروع کرنے کا عندیہ دے رکھا ہے۔
اس سے قبل 27 اکتوبر کو وزیراعظم شہباز شریف اور حافظ نعیم الرحمان کے درمیان ملاقات ہوئی تھی۔ جس میں دونوں فریقین نے ایک مشترکہ کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق کیا تھا، جسے سرکاری فیول ریلیف اسکیم میں توسیع اور پیٹرولیم لیوی میں مرحلہ وار کمی سے متعلق تجاویز تیار کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔
حکومت کی جانب سے اس کمیٹی میں اسحاق ڈار، احسن اقبال اور رانا ثنااللہ جبکہ جماعت اسلامی کی جانب سے لیاقت بلوچ سمیت دیگر رہنما شامل ہیں۔
واضح رہے کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے باعث حکومت نے 17 ستمبر سے ملک بھر میں ایندھن پر ریلیف اسکیم شروع کر رکھی ہے، جس کے تحت موٹرسائیکلوں، رکشوں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ حکومت کے مطابق اس اسکیم کا مقصد پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں سے کم آمدنی والے طبقے کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ پیٹرولیم لیوی عوام پر اضافی مالی بوجھ ہے، اس لیے اسے ختم کیا جائے۔
مزید پڑھیں:کنسٹیٹیوشن ون بےقاعدگیاں، سی ڈی اے کی کوتاہی، دوبارہ نیلامی کی سفارش: وفاقی وزراء
واضح رہے کہ وزیراعظم کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کے بعد جماعت اسلامی نے حکومتی درخواست پر اسلام آباد مارچ ملتان پہنچنے کے بعد مؤخر کر دیا گیا تھا، تاہم پارٹی کا کہنا ہے کہ مطالبات پر خاطر خواہ پیش رفت نہ ہوئی تو احتجاج دوبارہ شروع کیا جاسکتا ہے۔









