اسلام آباد: پاکستان اور روس نے ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو عملی کاروباری معاہدوں میں تبدیل کرنے کے لیے اہم پیش رفت کی ہے۔ دونوں ممالک کی سرکاری شخصیات، صنعتی تنظیموں اور معروف ٹیکنالوجی کمپنیوں نے مشترکہ منصوبوں، سرمایہ کاری اور نئی منڈیوں تک رسائی کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔
اس سلسلے میں وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کے ماتحت پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (پی ایس ای بی) اور ماسکو کی یونیورسٹی آف ورلڈ سویلائزیشنز کے اشتراک سے پاکستان اور روس کے درمیان آئی ٹی تعاون پر تیسرا ویبینار منعقد ہوا۔ اجلاس میں مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سائبر سیکیورٹی، ڈیجیٹل گورننس، آئی ٹی خدمات کی تجارت، کاروباری شراکت داری، ڈیجیٹل مہارتوں کے تبادلے اور کوانٹم کمپیوٹنگ سمیت اہم شعبوں میں تعاون کے مواقع زیرِ غور آئے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی پاکستان کی معاشی ترقی اور تبدیلی کا اہم ذریعہ ہے، جبکہ پاکستان اور روس کے درمیان اس شعبے میں تعاون سے جدت، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کو فروغ مل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اڑان پاکستان‘‘ منصوبے کے تحت ای پاکستان پانچ بنیادی ترجیحی شعبوں میں شامل ہے، جس کا ہدف 2035 تک ملکی معیشت کو ایک ہزار ارب ڈالر کی سطح تک پہنچانا ہے۔
احسن اقبال نے زور دیا کہ دونوں ممالک کو روایتی تعاون سے آگے بڑھ کر ٹیکنالوجی پر مبنی مشترکہ منصوبوں، کاروباری شراکت داری اور عالمی منڈیوں کے لیے مسابقتی مصنوعات اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی تیاری پر توجہ دینی چاہیے۔
ان کے مطابق پاکستان میں ہر سال 75 ہزار سے زائد آئی ٹی گریجویٹس تیار ہو رہے ہیں، جبکہ 2030 تک 10 لاکھ مصنوعی ذہانت کے ماہرین تیار کرنے اور تحقیق و صنعت کے روابط مضبوط بنانے کے لیے سات نئے اے آئی مراکز قائم کرنے کا ہدف ہے۔
انہوں نے نادرا کے ڈیجیٹل شناختی نظام اور فوری ادائیگی کے نظام ’’راست‘‘ کو پاکستان کی ڈیجیٹل صلاحیتوں کی نمایاں مثالیں قرار دیتے ہوئے بتایا کہ راست کے ذریعے ایک سہ ماہی میں 64 کروڑ 60 لاکھ ٹرانزیکشنز مکمل ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ روس کی سائنسی و انجینئرنگ مہارت اور پاکستان کی ہنرمند افرادی قوت مل کر اے آئی، سائبر سیکیورٹی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز میں باہمی فائدے کے مواقع پیدا کر سکتی ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کو عملی معاشی نتائج میں بدلا جائے۔ مشترکہ منصوبوں، آزمائشی پراجیکٹس، سرمایہ کاری اور نئی منڈیوں تک رسائی کے ذریعے تعاون کی کامیابی کو تجارت، جدت اور روزگار کے مواقع میں اضافے سے جانچا جائے گا۔
ویبینار میں بتایا گیا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان کی آئی ٹی اور ٹیلی کام برآمدات ریکارڈ 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد زیادہ ہیں۔
روس کی نائب وزیر برائے ڈیجیٹل ترقی، مواصلات و ذرائع ابلاغ بیلا چرکیسووا نے روس کی جانب سے کلیدی خطاب کیا اور ڈیجیٹل تعاون کے حوالے سے پالیسی، سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کے امکانات اجاگر کیے۔
روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے کہا کہ پاکستان اور روس کے تعلقات تعاون کے نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں اور ٹیکنالوجی و ڈیجیٹل تجارت دونوں ممالک کے معاشی روابط کا اہم ستون بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو میں پاکستانی سفارتی مشن روسی منڈی میں پاکستانی کمپنیوں کے لیے مواقع پیدا کرنے کی غرض سے پی ایس ای بی کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔
پی ایس ای بی کے چیف ایگزیکٹو فیصل جڈی نے کاروباری رابطوں کو عملی معاہدوں میں تبدیل کرنے کے لیے طریقہ کار پیش کرتے ہوئے کہا کہ پہلے کاروباری مواقع کی نشاندہی، پھر موزوں کمپنیوں کا انتخاب، مشترکہ آزمائشی منصوبے پر اتفاق اور دونوں جانب رابطہ افسران کی نامزدگی کی جائے گی۔ ان کے مطابق پی ایس ای بی اس عمل کی مسلسل نگرانی اور معاونت کرے گا تاکہ مذاکرات محض اعلانات تک محدود نہ رہیں۔
مختلف سیشنز میں پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (پاشا)، روسی سافٹ ویئر انڈسٹری کی تنظیم RUSSOFT، ایبرکس، پازیٹو ٹیکنالوجیز، ٹی ایم سی اور روسی کوانٹم سینٹر کے نمائندوں نے شرکت کی۔
شرکا نے سائبر سیکیورٹی، انٹرپرائز سافٹ ویئر، مالیاتی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ میں مشترکہ مصنوعات و خدمات کی تیاری اور پاکستان، روس سمیت عالمی منڈیوں میں مل کر کام کرنے کے امکانات پر گفتگو کی۔
اختتامی کلمات میں وفاقی سیکریٹری آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن ضرار ہاشم خان نے کہا کہ ویبینار میں کئی واضح کاروباری مواقع کی نشاندہی ہوئی ہے۔
مزید پڑھیں:وزیراعظم کا سبسڈی نہ دینے والے پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کا حکم
وزارتِ آئی ٹی ان منصوبوں کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے، نئی منڈیوں سے متعلق معلومات فراہم کرنے اور ضابطہ جاتی معاملات میں سہولت دینے کے لیے کردار ادا کرے گی، جبکہ پی ایس ای بی اور شراکت دار ادارے مشترکہ منصوبوں پر پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لیں گے۔








