امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے ’ریوارڈز فار جسٹس پروگرام‘(Rewards for Justice Program) کے تحت ایران کے جوہری پروگرام، حساس تنصیبات، آلات، سائنس دانوں اور متعلقہ اہلکاروں کی نقل و حرکت کے بارے میں مصدقہ معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے 2 کروڑ ڈالر (20 ملین ڈالر) تک کے انعام اور ممکنہ منتقلی (ری لوکیشن) کی پیشکش کی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق اس آفر کا مقصد تہران کو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری سے روکنا ہے۔
امریکا نے سال 1984 میں قائم کیے گئے اس پروگرام کے تحت ’سِگنل‘ جیسی محفوظ انکرپٹڈ ایپ کے ذریعے معلومات بھیجنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ معلومات دینے والوں کا راز برقرار رکھا جا سکے۔
Rewards for Justice is offering a reward of up to $20 million and possible relocation for information about Iran’s nuclear program, including its facilities, equipment, and associated personnel, such as those in the scientific community, or the movement of any of the above.… pic.twitter.com/ruTNlZxqFh
— U.S. Central Command (@CENTCOM) November 7, 2026
یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر دوبارہ ممکنہ فضائی حملوں پر غور جاری ہے، جبکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان قطر کی وساطت سے سفارتی مذاکرات کا سلسہ بھی فعال ہے۔
مزیدپڑھیں:پاکستان کے بینکوں اور اہم یوٹیلیٹی ڈھانچوں پر اے آئی سے لیس سائبر حملوں کا خدشہ، الرٹ جاری
جمعہ کو اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا تھا کہ تہران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور ان کی انتظامیہ جنگ دوبارہ شروع کرنے یا کارروائی کو آگے بڑھانے کے معاملے پر جلد فیصلہ کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پورے ملک کو تباہ کرنا نہیں چاہتے، لیکن شاید انہیں یہ قدم اٹھانا پڑے۔
سینئر امریکی حکام کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران میں ممکنہ عسکری کارروائیوں کے لیے اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دے دی ہے، تاہم واشنگٹن سے اب تک حتمی احکامات جاری ہونا باقی ہیں۔
خطے میں نو نومبر کو نیا چاند نکلنے کی توقع ہے، جس کے بعد تاریک راتیں عسکری کارروائیوں کے لیے انتہائی سازگار تصور کی جاتی ہیں۔
دوسری جانب بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے اپنی رپورٹس میں بتایا ہے کہ ایران 60 فیصد تک یورینیم کی افزودگی کر رہا ہے، جو کہ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے لیے درکار 90 فیصد کی حد کے انتہائی قریب ہے۔
ایجنسی کا کہنا ہے کہ تہران کے عدم تعاون کے باعث اسے سینٹری فیوجز اور اہم آلات کے بارے میں باقاعدہ جانکاری میں مشکلات کا سامنا ہے۔
امریکا کے اس 2 کروڑ ڈالر کے انعامی اعلان پر سفارتی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے مختلف ردِعمل سامنے آ رہے ہیں۔
کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ اقدام خطے میں معلومات کے امریکی نیٹ ورک کے خلا کو پورا کرنے کی کوشش کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ دیگر تجزیہ کاروں کے مطابق یہ جاری سفارتی اور عسکری مذاکرات کے دوران تہران پر شدید سیاسی دباؤ بڑھانے کی ایک حکمتِ عملی ہے۔
امریکا ماضی میں بھی قومی سلامتی سے متعلق اہم معلومات کی فراہم پر لاکھوں ڈالر کے انعامات ادا کرتا رہا ہے، اور حالیہ اقدام خطے میں جاری شدید کشیدگی کی نئی کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔








