بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بجلی کے صنعتی اور زرعی صارفین کیلئے اضافی استعمال پیکیج کا نرخ 25 روپے 30 پیسے فی یونٹ مقرر، پاور ڈویژن کی وضاحت

اسلام آباد: پاور ڈویژن(Power Division) نے واضح کیا ہے کہ نیپرا کی جانب سے جمعے کو منظور کیا گیا 25 روپے 30 پیسے فی یونٹ اضافہ صنعتی اور زرعی صارفین کے لیے انکریمنٹل کنزمپشن پیکیج کے تحت اضافی بجلی کے استعمال کا نظرثانی شدہ نرخ ہے، اسے صنعتی بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اضافہ قرار دینا درست نہیں۔

پاور ڈویژن کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ اضافی بجلی کے استعمال سے متعلق پیکیج کے نرخوں پر نظرثانی کی گئی ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے باعث بجلی کی اضافی پیداوار کی لاگت میں اضافہ ہے۔

ترجمان کے مطابق اس پیکیج کے تحت صنعتی اور زرعی صارفین کو معمول کے استعمال سے زائد بجلی استعمال کرنے پر مخصوص نرخوں کے مطابق سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ تاہم بجلی کی اضافی پیداوار کی لاگت بڑھنے کے باعث اس پیکیج کے تحت اضافی یونٹس کا نرخ تبدیل کرنا پڑا۔

پاور ڈویژن نے مزید بتایا کہ نرخوں میں یہ تبدیلی عارضی نوعیت کی ہے اور اس کا اطلاق نومبر 2026 سے ہوگا۔

مزیدپڑھیں:مریم نواز کے دورہ جہلم کے باعث انٹرمیڈیٹ کے کمپیوٹر سائنس کے پرچے ملتوی، نئی تاریخ کا اعلان

نیپرا کے فیصلے کے اثرات کی وضاحت کرتے ہوئے ترجمان کا کہنا تھا کہ نظرثانی شدہ نرخ مقرر کرنے کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ انکریمنٹل کنزمپشن پیکیج کے تحت فراہم کیے جانے والے ریلیف کی لاگت دیگر بجلی صارفین پر منتقل نہ ہو۔

بیان میں خاص طور پر واضح کیا گیا کہ پیکیج سے فائدہ نہ اٹھانے والے صارفین، بالخصوص عام صارفین، پر اس سہولت کی مالی ذمہ داری نہیں ڈالی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس اقدام کے ذریعے اضافی بجلی استعمال کرنے والے صنعتی اور زرعی صارفین کے لیے پیکیج کو جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ بجلی کی اضافی پیداوار کی لاگت کا بوجھ بھی متعلقہ صارفین تک محدود رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ 25 روپے 30 پیسے فی یونٹ کا نظرثانی شدہ نرخ انکریمنٹل کنزمپشن پیکیج کے تحت اضافی بجلی کے استعمال پر لاگو ہوگا، نہ کہ تمام صنعتی صارفین کے بنیادی بجلی ٹیرف پر۔