اسلام آباد(ممتا زنیوز)یوم آزادی کی منعقدہ پروگرام میں وزیراعظم شہبا زشریف اور دیگر اتحادی جماعتوں کے رہنما ڈانس پارٹی دیکھ کر انجوئے کررہے ہیں۔ جس پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اتحادی حکومت کو سخت تنقید کا سامنا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ جمعیت علماء اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان پہلے تو معمولی معمولی باتوں پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا کرتے تھے جبکہ اب وہ خود حکومت میں اتحادی بن کراس ڈانس پارٹی پر ایک لفظ بھی نہیں کہہ رہے ۔
سینئر صحافی انصار عباسی نے اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ پہلے جشن آزادی کے موقعہ پر ملی نغمے گائے جاتے تھے، موجودہ حکومت نے اس بار سرکاری سطح پر مجرے شروع کرا کر پاکستان کو “ترقی” کی نئی منزلوں تک پہنچا دیا۔
پہلے جشن آزادی کے موقعہ پر ملی نغمے گائے جاتے تھے، موجودہ حکومت نے اس بار سرکاری سطح پر مجرے شروع کرا کر پاکستان کو “ترقی” کی نئی منزلوں تک پہنچا دیا۔ #افسوس_صد_افسوس
— Ansar Abbasi (@AnsarAAbbasi) August 15, 2022
سینئر اینکر کامران شاہد نے اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ قرضوں کے بوجھ تلے دبے ملک کے یوم آزادی پر سرکاری اجلاس میں جس طرح ڈانسرز ڈانس کر رہے ہیں وہ قوم کی توہین ہے- ان پر کتنا خرچ آیا؟ پھر مسٹر شہباز پاکستان کے لیے بھیک مانگنے کا پیالہ لے کر چکر لگاتے!
The way dancers are dancing in official session at the Day of Independence of the country that is under the tons and tons of debts is a disgrace to the nation- How much is the expenditure for these items ? Then Mr Shahbaz would go on round trip with begging bowl for Pakistan ! pic.twitter.com/IYcyMlRr1Z
— Kamran Shahid (@FrontlineKamran) August 14, 2022
مفتی سید عدنان کاکاخیل نے اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ یوم آزادی کا مطلب شرم و حیا سے آزادی اور دینی احکامات کی پامالی ہرگز نہیں ہے۔سرکاری سطح پر مخلوط رقص و سرود کی محفلیں اور عوامی سطح پر بینڈ باجوں اور آتش بازیوں کے ذریعہ یوم آزادی منانا کون سا طریقہ ہے۔آزادی عظیم نعمت ہے جس کا شکر رب العالمین کے حضور عبدیت کے تقاضے بجا لانا ہے۔
یوم آزادی کا مطلب شرم و حیا سے آزادی اور دینی احکامات کی پامالی ہرگز نہیں ہے۔سرکاری سطح پر مخلوط رقص و سرود کی محفلیں اور عوامی سطح پر بینڈ باجوں اور آتش بازیوں کے ذریعہ یوم آزادی منانا کون سا طریقہ ہے۔آزادی عظیم نعمت ہے جس کا شکر رب العالمین کے حضور عبدیت کے تقاضے بجا لانا ہے۔
— Syed Adnan Kakakhail (@Mufti_Kakakhail) August 15, 2022








